وقت کے ساتھ یہ پتا چلے گا کہ آئینی عدالت کے قیام کا فیصلہ درست ہے یا نہیں، اعظم نزیر تاڑر
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
وفاقی وزیر قانون اعظم نزیر تاڑر نے کہا ہے کہ آئینی عدالت نے اپنا کام شروع کر دیا ہے اور وقت کے ساتھ یہ پتا چلے گا کہ یہ فیصلہ درست ہے یا نہیں۔
لاہور میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے میں آپ لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اس سیکشن کو اللہ تعالی اس طرح کامیاب رکھے۔ اگر کسی معاشرے سے پرامن رہنا ہے یا ترقی کرنی ہے تو ہر کسی نے اپنا رول پلے کرنا ہے۔ بطور وزیر قانون مجھے بہت تنقید ہوتی ہے، آج میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس موقع ہے کہ سب باتیں بتا دوں۔
انہوں نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کا آغاز ہوا اور اس میں ہمیں ایک آئینی عدالت کی ضرورت تھی۔ ماضی میں ایسی مثال موجود ہے کہ سپریم کورٹ نے گریس سے باہر نکل کر کام کیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں میں جب نظر ثانی کی گئی تو پتہ چلا کہ موت کی سزا کے فیصلے غلط ہو گئے۔ جو بھی ہو، یہ بات طے شدہ ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے انہوں نے مشاہدہ کیا کہ آئینی بنچز بنائے گئے، اور اس پر سوال و جواب بھی ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ ججز کی ٹرانسفر کے معاملے میں صدر، وزیراعظم اور سپریم کورٹ کے چیف سے پوچھا جائے گا۔ پہلے سے بہتر اقدامات کیے گئے ہیں اور ججز کی کارکردگی کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر پنجاب کے پاس اچھے ججز ہیں اور اسلام آباد میں بھی ہیں، تو کیا سندھ اور خیبرپختونخوا کے حصے کا حق نہیں؟ آئینی عدالت نے اپنا کام شروع کر دیا ہے اور وقت کے ساتھ یہ پتا چلے گا کہ یہ فیصلہ درست ہے یا نہیں۔
اعظم نزیر تاڑر نے کہا کہ پاکستان میں آئین میں ترمیم کرنا صرف پارلیمنٹ کا حق ہے، عدالت کو اس میں کوئی اختیار نہیں ہے۔ میں آخری شخص ہوتا جو اسے قبول کرتا ہوں اور قانون کے مطابق عمل درآمد ہوتا ہے۔ جب آپ ریڈ لائن کراس کریں گے تو ایسے حالات پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا معاملہ صرف پاکستان میں نہیں، بلکہ پوری دنیا میں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئینی عدالت انہوں نے نے کہا
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔