خیبرپختونخوا حکومت کا پولیس ایکٹ فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
پشاور:
خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور ہائیکورٹ کے پولیس ایکٹ سے متعلق فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کرلیا۔
صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کا کہنا ہے کہ پولیس ایکٹ کو کالعدم قرار دینا آئینِ پاکستان کے دیباچے کی خلاف ورزی ہے، فیصلہ جمہوری طور پر منتخب نمائندوں کے آئینی اختیارات کو مجروح کرتا ہے۔
وزیر قانون نے کہا کہ اس غیر آئینی فیصلے کے خلاف آئین کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، صوبائی حکومت اور صوبائی اسمبلی اس فیصلے کو عدالتی اختیارات سے تجاوز، آئینی حدود کی پامالی اور جمہوری نظام پر براہِ راست حملہ قرار دیتا ہے۔
واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے گزشتہ روز خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2017 میں کے پی پولیس (ترمیمی) ایکٹ 2024 کے ذریعے کی گئی ترامیم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا تھا۔
چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس محمد اعجاز خان پر مشتمل پشاورہائیکورٹ کی ڈویژن بینچ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ 2024 کی ترامیم کے تحت سینئر پولیس افسران (بی ایس 18 اور اس سے زائد) کی تعیناتیوں کو وزیر اعلیٰ کی منظوری سے مشروط کرنا اور انسپکٹر جنرل آف پولیس سے فیلڈ کمانڈرز کی تقرری کا قانونی اختیار واپس لینا پولیس کی پیشہ ورانہ اور عملی خودمختاری کو غیر آئینی طور پر ختم کرنے کے مترادف ہے۔
عدالت کے مطابق ان ترامیم کے نتیجے میں پولیس کو قانون کی بجائے سیاسی مصلحتوں کا آلہ بنانے کی کوشش کی گئی، جو آئین کے منافی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئینی نظام کے تحت انتظامیہ کو پولیس پر صرف محدود نوعیت کی ’نگرانی‘ حاصل ہے، جس کا دائرہ کار پالیسی سازی اور عمومی نگرانی تک محدود ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پولیس ایکٹ
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔