ایپسٹین فائلز میں نام سامنے آنے پر انوراگ کشیپ کا ردعمل: “کوئی تعلق نہیں”
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
بھارتی فلم ساز انوراگ کشیپ نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق حال ہی میں سامنے آنے والی دستاویزات میں اپنا نام شامل ہونے کے بعد وضاحت جاری کی ہے۔
انوراگ کشیپ نے اپنے بیان میں خبروں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایپسٹین سے ان کا کسی بھی قسم کا تعلق نہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ وہ کبھی بیجنگ نہیں گئے اور نہ ہی انہیں کسی ای میل یا تقریب کے بارے میں علم تھا۔
رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایپسٹین فائلز میں ان کا حوالہ ایک ای میل تھریڈ کے ذریعے آیا، جس میں مختلف عالمی ورکشاپس کے ممکنہ شرکاء کی فہرست شامل تھی۔ اس ای میل میں ایک بالی ووڈ ہدایت کار کا ذکر تھا، جسے بعض حلقوں نے انوراگ کشیپ سے جوڑنے کی کوشش کی۔
انوراگ کشیپ نے زور دیا کہ پیشہ ورانہ بنیادوں پر انہیں مختلف تقریبات میں شرکت کی دعوتیں ملتی رہتی ہیں، لیکن وہ شاذ و نادر ہی ان پر ردعمل دیتے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ان کے نام سے بننے والی سنسنی خیز خبریں ان کی فلموں سے بھی زیادہ مقبول ہو جاتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایپسٹین فائلز میں کسی کا نام شامل ہونا لازمی طور پر کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ہے، کیونکہ اس دستاویز میں ای میلز، سفری تفصیلات اور دعوت ناموں سمیت کئی معروف شخصیات کے نام بھی شامل ہیں، جن میں ڈونلڈ ٹرمپ، پرنس اینڈریو اور بل گیٹس بھی شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انوراگ کشیپ
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔