سزا یافتہ جنسی مجرم ایپسٹین کی فائلز میں نام آنے پر انوراگ کشیپ نے خاموشی توڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
بھارتی معروف فلم ساز اور ہدایت کار انوراگ کشیپ نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی تازہ دستاویزات میں نام سامنے آنے کے بعد خاموشی توڑ دی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق انوراگ کشیپ نے انٹرنیٹ پر زیرِ گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سزا یافتہ پیڈوفائل جیفری ایپسٹین سے ان کا کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایپسٹین فائلز میں انوراگ کاشیپ کا حوالہ ایک ای میل تھریڈ کے ذریعے سامنے آیا ہے، اس ای میل تھریڈ میں مختلف بین الاقوامی ورکشاپس کے ممکنہ شرکاء کی فہرست شامل ہے۔
مبینہ طور پر منتظمین نے مذکورہ ای میل میں ایک بالی ووڈ بوائے اور ایک معروف بالی ووڈ ہدایت کار کا ذکر کیا ہے، جسے بعض حلقوں نے انوراگ کشیپ سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔
ان ورکشاپس کے موضوعات میں طب، ٹیکنالوجی اور بدھ مت جیسے موضوعات شامل تھے اور دعویٰ کیا گیا کہ 2017ء میں بیجنگ میں ایپسٹین سے منسلک ایک تقریب میں اس فلم ساز کی شرکت متوقع تھی۔
اب انوراگ کشیپ نے اس حوالے سے خاموشی توڑتے ہوئے ان دعوؤں کو گمراہ کن اور محض توجہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی بیجنگ کا سفر نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ میں اس بات پر حیران ہوں کہ میرا نام ان دستاویزات میں کیسے شامل ہوا، مجھے نہ تو ایسی کسی ای میل کا علم ہے اور نہ ہی کسی ایسی تقریب کا، مجھے پیشہ ورانہ بنیادوں پر تقریبات اور ورکشاپس میں شرکت کی متعدد دعوتیں موصول ہوتی رہتی ہیں، تاہم میں شاذ و نادر ہی ان کا جواب دیتا ہوں۔
انوراگ کشیپ کے مطابق ان کا جیفری ایپسٹین کے مبینہ نیٹ ورک سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
انہوں نے تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بے ترتیب ای میل ہے جو خود ہی سب کچھ واضح کر دیتی ہے، میرے نام پر بننے والی کلک بیٹ خبریں میری فلموں سے زیادہ مقبول ہو جاتی ہیں۔
واضح رہے کہ ایپسٹین فائلز میں کسی کا نام آنا لازمی طور پر کسی غلط کام یا مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونے کی نشاندہی نہیں کرتا۔
ایپسٹین فائلز سے مراد ان دستاویزات کا ایک بڑا مجموعہ ہے جو جیفری ایپسٹین سے متعلق ہیں، ایپسٹین جنسی جرائم میں سزا یافتہ تھا اور 2019ء میں حراست کے دوران ہلاک ہو گیا تھا۔
ان ریکارڈز میں سفری تفصیلات، ای میل تبادلے، تقریبات کے دعوت نامے اور متعدد معروف شخصیات کے نام شامل ہیں۔
دستاویز میں ڈونلڈ ٹرمپ، اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر اور بل گیٹس سمیت دیگر اہم شخصیات کے نام شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انوراگ کشیپ نے جیفری ایپسٹین سزا یافتہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :