اعلامیے کے مطابق 30 جنوری کو پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز کا سپریم کورٹ کے سامنے اجتماع تھا۔ رجسٹرار سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی نمائندگان سے ملاقات کی۔

پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ کو چیف جسٹس سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔ زیرِ حراست پی ٹی آئی قائد تک اہلِ خانہ کی رسائی پر تحفظات پیش کیے گئے، جبکہ زیرِ حراست قائد تک طبی ماہرین کی رسائی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔

سپریم کورٹ کے مطابق معاملہ کسی زیرِ سماعت مقدمے سے متعلق نہیں تھا اور تحفظات انتظامی نوعیت کے تھے، جنہیں متعلقہ حکام کو ارسال کر دیا گیا۔ قانون کے مطابق مناسب غور و خوض کے لیے معاملہ متعلقہ حکام کو بھجوا دیا گیا۔ تحفظات ارسال ہونے کے بعد مجمع پُرامن طور پر منتشر ہو گیا تھا۔

اعلامیہ کے مطابق 6 فروری کو اپوزیشن قیادت نے دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ اور قومی اسمبلی بھی وفد میں شامل تھے۔ دستخط شدہ یادداشت رجسٹرار سپریم کورٹ نے باضابطہ وصول کی۔

زیرِ حراست پی ٹی آئی قائد تک رسائی کا معاملہ دوبارہ اٹھایا گیا جبکہ طبی رپورٹس کی فراہمی سے متعلق تحفظات بھی شامل تھے۔ یادداشت متعلقہ انتظامی حکام کو دوبارہ ارسال کر دی گئی ہے۔

سپریم کورٹ کے مطابق آئندہ ایسے معاملات کے لیے ایس او پیز جاری کر دیے گئے ہیں۔ متاثرہ فریقین سے رابطے کا باقاعدہ طریقۂ کار طے کر دیا گیا ہے۔

ایس او پیز میں ادارہ جاتی وقار کے تحفظ، عدالتی امور اور دیگر سائلین کے حقوق کے تحفظ، رسائی، سہولت کاری اور ضروری سہولیات یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

ہنگامی طبی سہولت کی فراہمی بھی ایس او پیز کا حصہ ہے۔ ایس او پیز سے طریقہ کار میں نظم و ضبط آئے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سپریم کورٹ ایس او پیز پی ٹی آئی کے مطابق دیا گیا

پڑھیں:

شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان

ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ