کراچی: لانڈھی ایکسپورٹ پراسسنگ زون میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی کے علاقے لانڈھی میں واقع ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں واقع فیکٹریوں میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے صنعتی علاقے لانڈھی میں واقع ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں قائم پلاسٹک مصنوعات تیار کرنے والی فیکٹری میں بھڑکنے والی شدید آگ کو طویل اور مسلسل کوششوں کے بعد تقریباً گیارہ گھنٹے میں قابو پالیا گیا، تاہم متاثرہ حصوں میں دوبارہ آگ بھڑکنے کے خدشے کے پیش نظر کولنگ کا عمل تاحال جاری ہے۔
چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے کہا کہ کولنگ کا عمل مکمل کرنے میں تین سے چار روز لگ سکتے ہیں، فائر بریگیڈ کی ٹیمیں مسلسل کولنگ کے عمل میں مصروف ہیں تاکہ آگ دوبارہ نہ بھڑک اٹھے۔
ہمایوں خان نے بتایا کہ آگ ابتدائی طور پر ایک فیکٹری میں بھڑکی، تاہم وہاں موجود آتش گیر مواد کے باعث دیکھتے ہی دیکھتے شعلے ساتھ قائم دوسری فیکٹری تک پھیل گئے۔ فائر فائٹرز کی بروقت اور منظم کارروائی کے نتیجے میں تیسری فیکٹری کو متاثر ہونے سے بچا لیا گیا، جس سے بڑے مالی نقصان کا خدشہ ٹل گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ یونٹس میں پلاسٹک کے سامان کے علاوہ پرانے کپڑوں اور جوتوں کا ذخیرہ بھی موجود تھا، جس نے آگ کی شدت میں مزید اضافہ کیا۔
فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ شعلوں اور دھوئیں نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں غیر معمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تیسرے درجے کی اس آگ کی اطلاع جمعے کی رات تقریباً پونے نو بجے موصول ہوئی، جس کے فوری بعد کے ایم سی، پاکستان نیوی اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پانے کے لیے مجموعی طور پر بیس سے زائد فائر ٹینڈرز اور تین اسنارکلز استعمال کیے گئے جبکہ فائر فائٹرز نے مسلسل کئی گھنٹوں تک شدید گرمی اور دھوئیں میں رہتے ہوئے کارروائی جاری رکھی، صورتحال اب کنٹرول میں ہے، تاہم مکمل کولنگ کے بعد ہی آپریشن ختم کیا جائے گا۔
کمشنر کراچی نے واقعے سے متعلق بتایا کہ خوش قسمتی سے اس ہولناک آتشزدگی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ابتدائی اندازوں کے مطابق فیکٹریوں میں موجود مشینری اور تیار مال کو بھاری مالی نقصان پہنچا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے حادثات سے بچاؤ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
یاد رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی سے متاثرہ فیکٹری سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔