بسنت کی رونق میں چاہت فتح علی خان کی انٹری، رقص کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
مزاحیہ انداز اور گلوکاری کی وجہ سے سوشل میڈیا پر شہرت رکھنے والے چاہت فتح علی خان بسنت کی خوشیوں میں شامل ہونے کے لیے لاہور پہنچ گئے۔ انہوں نے چھت پر پتنگ بازی کے دوران رقص کرتے ہوئے اپنی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی، جو فوراً وائرل ہو گئی۔
ویڈیو میں چاہت فتح علی خان دونوں ہاتھوں میں پتنگ تھامے خوش و خرم نظر آ رہے ہیں، جبکہ اردگرد موجود لوگ ان کے ساتھ تصاویر بنواتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ کلپ سامنے آتے ہی صارفین نے اپنے تبصرے کیے، کچھ نے ان کے انداز کو سراہا تو کچھ نے مزاحیہ انداز میں دلچسپ ردعمل دیا۔
بسنت کے موقع پر چاہت فتح علی خان نے اپنا نیا گانا بھی ریلیز کیا، جس کے بول “بندے باریاں ہیں” ہیں۔ اس گانے کی ویڈیو انہوں نے یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ کی، جس پر صارفین کی جانب سے ملے جلے ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چاہت فتح علی خان
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔