آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں پاکستان نے نیدرلینڈز کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 3 وکٹوں سے شکست دے کر میچ جیت لیا، اس جیت کے ہیرو رانا فہیم اشرف رہے جن کی شاندار بیٹنگ نے میچ کا رخ یکسر بدل دیا۔

کولمبو میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ نیدرلینڈز کی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 147 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ قومی ٹیم کے باؤلرز نے ابتدا میں نیدرلینڈز کے بلے بازوں کو دباؤ میں رکھا اور مقررہ ہدف تک محدود رکھا۔

148 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے اچھا آغاز کیا، تاہم مڈل آرڈر ایک بار پھر ناکام رہا جس کے باعث میچ اختتامی اوورز میں پھنس گیا۔ پاکستان کو آخری دو اوورز میں 29 رنز درکار تھے، ایسے نازک موڑ پر رانا فہیم اشرف نے ذمہ دارانہ اور جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔

فہیم اشرف نے 19ویں اوور میں تین شاندار چھکوں کی مدد سے 24 رنز بٹور کر میچ کا نقشہ بدل دیا۔ آخری اوور میں بھی انہوں نے چوکا لگا کر پاکستان کو شکست سے بچایا اور 11 گیندوں پر ناقابل شکست 29 رنز بنا کر گرین شرٹس کو فتح سے ہمکنار کیا۔

پاکستان نے یہ میچ 3 وکٹوں سے جیتا جبکہ شاندار کارکردگی پر رانا فہیم اشرف کو پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔

نیدرلینڈز کے خلاف اس یادگار اننگز کے بعد سوشل میڈیا پر رانا فہیم اشرف کے چرچے ہونے لگے۔ صارفین نے ان کی بیٹنگ کو خوب سراہا اور دلچسپ تبصرے کیے۔

مزید پڑھیں

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: محسن نقوی نے پاکستان کی جیت فہیم اشرف کے جڑواں بچوں کے نام کردی

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: فہیم اشرف کی جارحانہ بیٹنگ، نیدرلینڈز کو 3 وکٹوں سے شکست

پی ایس ایل کی ٹیم اسلام آباد یونائیٹڈ نے بھی ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان جاری کرتے ہوئے لکھا کہ ماچس تو یونہی بدنام ہے زمانے میں، آگ تو رانا فہیم نے لگا رکھی ہے۔

ماچس تو یونہی بدنام ہے زمانے میں
آگ تو رانا فہیم نے لگا رکھی ہے ????????

WE LOVE YOU RANA FAHEEM ASHRAF#PAKvNED #T20WorldCup pic.

twitter.com/EC9stQcbim

— Islamabad United (@IsbUnited) February 7, 2026

ایک صارف نے ایکس پر فہیم اشرف کی تصویر لگاتے ہوئے لکھا کہ لوگ رانا رانا کہتے ہیں رانا کو پرواہ نہیں، ایک بار دل لگا کے دیکھو رانا بےوفا نہیں۔

لوگ رانا رانا کہتے ہیں رانا کو پرواہ نہیں
ایک بار دل لگا کے دیکھو رانا بےوفا نہیں ???? pic.twitter.com/jF6jsoGFhD

— Abubakar Khan (@abubakarmemer) February 7, 2026

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رانا فہیم اشرف پاکستان نے ایک بار

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف