گمراہ کن مذہبی نظریہ؛ گُرو اور اسکی چیلی کو بچے کے جنسی استحصال پر 80 سال قید
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
امریکا میں بچوں کے جنسی استحصال کے مقدمے میں نام نہاد مذہبی گُرو اور اس کی خاتون شاگرد کو بالترتیب 80 اور 70 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وفاقی عدالت میں دونوں ملزمان پر بچوں کے جنسی استحصال، فحش مواد کی تیاری اور پھر اسے عام کرنے جیسے سنگین الزامات ثابت ہوئے تھے۔
پولیس تحقیقات کے دوران ثابت ہوا وسام شریف خود کو ایک مذہبی پیشوا بناکر پیش کرتا اور گمراہ کن مذہبی دلائل کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنی چیلی کو اس کریہہ عمل کے لیے تیار کیا۔
عدالتی دستاویزات میں بتایا گیا کہ اکتوبر 2024 میں دونوں ملزمان نے 7 سالہ بچے کو نازیبا مواد دکھانے کے بعد اسے جنسی حرکات پر مجبور کیا تھا۔
پھر دونوں نے بچے کی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر بناکر انھیں زیادہ سے زیادہ تعداد میں پھیلایا اور یہ سب خود ساختہ مذہبی نظریے کے تحت کیا۔
ایف بی آئی کی تحقیقات میں انکشاف کیا گیا کہ وسام شریف نے خاتون شاگرد باراکات کو یقین دلایا کہ جنسی لذت کے ذریعے اپنے پیدا کرنے والے کی قربت حاصل کی جا سکتی ہے۔
روحانی گُرو 44 سالہ وسام شریف کو 80 سال قید اور رہائی کے بعد تمام عمر نگرانی کی سزا کے ساتھ 1 لاکھ 35 ہزار ڈالرز خصوصی جرمانہ بھی عائد کیا۔
وسام شریف نامی روحانی گُرو کی چیلی 50 سالہ باراکات المعروف ہمنہ کو 70 سال قید اور عمر بھر نگرانی کے ساتھ 30 ہزار ڈالر جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وسام شریف
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔