امریکا: بچوں کے جنسی استحصال کے مقدمے میں 2 مجرمان کو بالترتیب 80 اور 70 سال قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکہ میں بچوں کے جنسی استحصال کے ایک سنگین مقدمے میں وفاقی عدالت نے دو ملزمان کو طویل قید کی سزا سنادی ہے، ایک ملزم کو 80 سال جبکہ دوسرے کو 70 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) اور محکمۂ انصاف نے بچوں کے جنسی استحصال اور چائلڈ پورنوگرافی کے ایک سنگین مقدمے میں دو ملزمان کو سخت سزائیں سنانے کا اعلان کیا ہے۔
وفاقی عدالت نے 44 سالہ وسام شریف کو 80 سال اور 50 سالہ شریک ملزمہ بلیک میلر باراکات کو 70 سال قید کی سزا سنائی ہے، جس کے ساتھ دونوں پر عمر بھر کی نگرانی بھی عائد کی گئی ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق وسام شریف اور باراکات نے جون 2025 میں بچوں کے جنسی استحصال اور فحش مواد رکھنے، تیار کرنے اور تقسیم کرنے کے الزامات قبول کیے تھے۔ عدالت نے ایمی، وکی اینڈ اینڈی ایکٹ کے تحت وسام شریف پر 1 لاکھ 35 ہزار ڈالر اور باراکات پر 30 ہزار ڈالر جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
ایف بی آئی کے مطابق وسام شریف نے مذہب کا استعمال کرتے ہوئے اپنی شاگرد باراکات کو گمراہ کن نظریہ دیا کہ جنسی لذت کے ذریعے اللّٰہ کے قریب ہوا جا سکتا ہے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق، اکتوبر 2024 میں دونوں ملزمان نے بالغ فحش مواد دیکھنے اور شیئر کرنے کے بعد ایک 7 سالہ بچے کو ویڈیوز دکھائی اور اسے جنسی حرکات پر مجبور کیا، جس سے چائلڈ پورنوگرافی تیار ہوئی۔
یہ مقدمہ امریکی محکمۂ انصاف کے ملک گیر پروگرام پراجیکٹ سیف چائلڈ ہڈ کے تحت درج کیا گیا، جو بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کے خلاف وفاقی، ریاستی اور مقامی اداروں کے تعاون سے چلایا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی بچوں کی حفاظت اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بچوں کے جنسی استحصال قید کی سزا وسام شریف کے مطابق
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔