افغان طالبان رجیم میں معاشی بحران عروج پر، سرمایہ کار خوفزدہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
اقوام متحدہ نے رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان رجیم میں معاشی بحران عروج پر ہے جس سے سرمایہ کار خوفزدہ ہیں۔
تفصیلات کے مطابق افغانستان میں معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔ طالبان رجیم کے ترجیحات دہشتگردوں کی حمایت و سرپرستی پر مرکوز ہے۔
افغان طالبان کی پالیسیوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو زمین بوس کر دیا، افغان طالبان رجیم کےمستحکم معیشت و سرمایہ کاری کے غیر حقیقی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم کی انتہا پسند پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ کار خوفزدہ ہیں اور سرمایہ کاری میں زبردست کمی آئی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ افغان رجیم کی سخت گیر پالیسیوں نے شفافیت دفن کر دی ہے، سالانہ 5 ارب ڈالر (غیر قانونی) ہوالہ ہنڈی میں جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
مزید برآں افغان رجیم کی ناکام معاشی پالیسیوں کے باعث بینکنگ رسائی انتہائی محدود ہے، صرف 6 فیصد آبادی کے پاس بینک اکاؤنٹ موجود ہے۔
بین الاقوامی ماہرین کے مطابق دہشتگردی کی سرپرستی کے سہارے کوئی معیشت نہیں چل سکتی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم کو دہشتگرد گروہوں کی حمایت ترک کر کے فوری طور پر افغانستان کی بگڑتی معیشت کو سنبھالنے پر توجہ دینا ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افغان طالبان رجیم
پڑھیں:
پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
پاکستان نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔ مستقل مندوب عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا کہ لبنان پر اسرائیل کے حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
عاصم افتخار نے کہا کہ اسرائیل حملے خطے میں امن کی کوششوں کو متاثر کررہے ہیں۔ پائیدار امن صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان لبنان کی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے مزید کہا کہ پاکستان تناؤ میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔