data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام قومی دفاع سے جڑا حساس معاملہ ہے اور یہ کسی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا۔

غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ  نے عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسقط میں امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے دوران امریکی وفد سے مصافحہ بھی ہوا۔

عباس عراقچی نے کہا کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو ایران خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا، تاہم امریکی سرزمین پر حملے کا امکان نہیں ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ جوہری افزودگی ایران کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے اور اسے جاری رہنا چاہیے، بمباری سے بھی وہ ہماری جوہری صلاحیتوں کو ختم نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ ہم افزودگی کے حوالے سے ایک یقین دہانی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہیں۔

عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی تاہم امریکا اور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ بات چیت جلد ہونی چاہیے۔

عباس عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ ایران کا میزائل پروگرام کسی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا کیونکہ یہ قومی دفاع سے جڑا حساس معاملہ ہے۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عباس عراقچی کا

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟