اسٹیٹ اتھارٹی کو چیلنج کرنا عدلیہ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے، جسٹس علی باقر نجفی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
جسٹس علی باقر نجفی : فائل فوٹو
وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس علی باقر نجفی کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ اتھارٹی کو چیلنج کرنا عدلیہ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔
لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ آئینی عدالت کا وجود 14 نومبر 2025 کو ہوا، ایک ہفتے میں اس کورٹ نے کام کا آغاز کیا، آئینی عدالت نے ابھی تک 2600 کیسز کا فیصلہ کر دیا ہے۔
جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ آئینی عدالت میں جو بھی کیس دائر ہوتا ہے کوشش کرتے ہیں کہ جلد فیصلہ کریں، آئینی عدالت سے پہلے آئینی بینچ کام کر رہا تھا، آئینی عدالت کے قیام کی دس وجوہات ہو سکتی ہیں، ایک وجہ جوڈیشل ایکٹوازم بھی ہوسکتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے بہت سے کیسز کے فیصلے اپنے اختیار سے باہر جا کر کیے، یہ بھی الزام تھا کہ جوڈیشری نے پالیسی سازی میں مداخلت شروع کر دی، کہا گیا کہ کیسز قانون کے مطابق حل کرنے کے بجائے دیگر معاملات پر حل کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک بہت بڑی بحث چل رہی ہے، ایک عنصر دہرا معیار بھی ہوسکتا ہے، ایک عنصر میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کیلئے پاپولر فیصلہ کرنا ہے، ایک عنصر یہ بھی تھا کہ اسٹیٹ اتھارٹی کو چیلنج کرنا ہے، اسٹیٹ اتھارٹی کو چیلنج کرنا عدلیہ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔
جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ عدلیہ کی آزادی کمپرومائز ہوئی ہے، میں نے سات ماہ سپریم کورٹ میں فوجداری نوعیت کا کام کیا، افسوس ہوا کہ سپریم کورٹ میں قتل کی اپیلیں سالوں سے زیر التوا تھیں، اس کی وجہ یہ تھی کہ ججز آئے روز آئینی معاملات میں الجھے ہوتے ہیں، اب یہ مسئلہ کافی حد تک حل ہوجائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جسٹس علی باقر نجفی اختیار سے باہر آئینی عدالت نے کہا کہ
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔