امریکہ ٹیرف معاہدے اور بھارت میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ فسادات تشویشناک ہیں، جماعت اسلامی ہند
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
فرقہ وارانہ اور ذات پات پر مبنی تشدد کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے مذہبی اقلیتوں، دلت برادریوں اور سماجی طور پر محروم طبقات کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور امتیازی سلوک کی شدید مذمت کی۔ اسلام ٹائمز۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ٹیرف معاہدے کے تعلق سے نہ تو پارلیمنٹ کو اور نہ ہی ملک کے عوام کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس معاہدے سے متعلق معلومات زیادہ تر سوشل میڈیا رپورٹس اور امریکی حکام کے بیانات کے ذریعے سامنے آ رہی ہیں۔ امریکہ سے آنے والے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان امریکی مصنوعات پر ٹیرف صفر تک کم کر سکتا ہے، جبکہ امریکہ ہندوستانی برآمدات پر تقریباً 18 فیصد ٹیرف عائد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ دعوے درست ہیں تو یہ معاہدے کے توازن پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ جن ٹیرف سطحوں کو اس وقت کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے وہ دراصل پہلے سے موجود شرحوں سے کہیں زیادہ ہیں۔
سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند اس بات پر بھی فکر مند ہے کہ ابھی تک امریکی ٹیرف سے محفوظ رہنے والے زرعی شعبے کو امریکہ کے لئے کھولا جا رہا ہے، اس اقدام سے کسانوں کی روزی روٹی اور غذائی تحفظ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ روس سے ہندوستان کی تیل خریداری سے متعلق امریکی دعوے نے مزید کنفیوزن پیدا کر دیا ہے، کیونکہ اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے نہ تو اس کی تصدیق کی گئی ہے اور نہ تردید سامنے آئی ہے۔حکومت کے رویے سے اس کی خودمختاری اور قوت فیصلہ پر شدید خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ نئے یونین بجٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ اگرچہ حکومت نے معاشی استحکام، سرمائے کے اخراجات اور مالیاتی نظم و ضبط پر زور دیا ہے، لیکن روزگار کے مواقع پیدا کرنے، سماجی شعبے کی ضروریات، بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات اور عوامی قرض کے بڑھتے ہوئے بوجھ جیسے اہم مسائل کو حل کرنے میں موجودہ بجٹ ناکام رہا ہے۔
فرقہ وارانہ اور ذات پات پر مبنی تشدد کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے مذہبی اقلیتوں، دلت برادریوں اور سماجی طور پر محروم طبقات کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور امتیازی سلوک کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے ان رپورٹوں کا حوالہ دیا جن کے مطابق 2025ء میں نفرت انگیز تقریروں کے 1,318 واقعات ریکارڈ کئے گئے، جن میں سے 98 فیصد بیانات میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ملک بھر میں ذات پات کی بنیاد پر متعدد مظالم بھی سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات آئینی اقدار اور سماجی ہم آہنگی کے لئے ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
اتراکھنڈ کے کوٹدوار واقعے کا ذکر کرتے ہوئے ملک معتصم خان نے کہا کہ کچھ بہادر نوجوانوں نے ایک مسلم تاجر کو فرقہ وارانہ حملے سے بچانے کی کوشش کی، لیکن فسادات کے اصل ذمہ داروں کو گرفتار کرنے کے بجائے پولیس نے انہی نوجوانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی یہ کارروائی قانون اور انصاف کا سراسر مذاق ہے۔ ملک معتصم خان نے کہا کہ بے قابو ہوتی جا رہی فرقہ واریت اور ذات پات کی نفرت ملک کے جمہوری ڈھانچے اور سماجی یکجہتی کے لئے خطرہ بن چکی ہے۔ انہوں نے تمام طرح کے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی فوری تحقیقات، قانونی تحفظ، موجودہ قوانین کے نفاذ اور انصاف کے فروغ کے لئے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی ہند ملک معتصم خان نے انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ بڑھتے ہوئے کرتے ہوئے اور سماجی ذات پات کے لئے
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔