ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر اوباما اور اہلیہ کی انتہائی نامناسب اے آئی ویڈیو شیئر کردی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سابق صدر باراک اوباما اور سابق خاتونِ اول مشیل اوباما کی توہین آمیز اے آئی ویڈیو کے سوشل میڈیا پر شیئر ہونے نے امریکہ میں ایک نئی تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر اوباما اور خاتون اول مشال اوباما کی انتہائی توہین آمیز اے آئی ویڈیو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پرشیئر کی تاہم ویڈیو وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا پر شدید عوامی تنقید سامنے آئی اور اس عوامی ردعمل کے بعد صدر ٹرمپ کو یہ پوسٹ ڈیلیٹ کرنا پڑی۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اس ویڈیو میں 2020 کے صدارتی انتخابات کے حوالے سے بے بنیاد اور سازشی الزامات بھی شامل تھے جبکہ آخری منظر میں باراک اوباما اور ان کی اہلیہ کو ایک جنگل میں نامناسب انداز میں پیش کیا گیا ہے، ویڈیو میں باراک اوباما اور مشیل اوباما کی تصاویر دو بندروں کی شکل میں تبدیل کر دی گئی تھیں، جس پر نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر میں شدید تنقید ہوئی۔
ریپبلکن سینیٹر ٹم اسکاٹ نے ویڈیو کو صدر کی جانب سے سب سے زیادہ نسل پرستانہ اقدام قرار دیتے ہوئے فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
ڈیموکریٹ رہنماؤں نے بھی اس اقدام پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ ہر امریکی، حتیٰ کہ ریپبلکن رہنماؤں کو بھی اس کی سخت مذمت کرنی چاہیے۔
ابتدائی طور پر وائٹ ہاؤس نے تنقید کو “جعلی غم و غصہ” قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ صرف ایک وائرل میم ہے جس میں ٹرمپ کو جنگل کا بادشاہ یعنی شیر اور ڈیموکریٹس کو رعایا کے طور پر دکھایا گیا، تاہم عوامی اور سیاسی دباؤ کے بعد وائٹ ہاؤس نے موقف تبدیل کرتے ہوئے بتایا کہ ویڈیو غلطی سے شیئر کی گئی تھی اور اسے ڈیلیٹ کر دیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے اس واقعے کے بعد کہا کہ انہوں نے پوسٹ مکمل طور پر نہیں دیکھی اور جیسے ہی حقیقت کا پتہ چلا، پوسٹ کو ہٹا دیا گیا۔ میں ہزاروں چیزیں دیکھتا ہوں اور یہ کوئی غلطی نہیں تھی۔
یہ تنازعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ میں بلیک ہسٹری ماہ (Black History Month) منایا جا رہا ہے اور باراک اوباما ملک کے پہلے سیاہ فام صدر ہونے کے ناطے تاریخی اہمیت رکھتے ہیں، جس نے اس معاملے کی حساسیت اور ردعمل کو مزید بڑھا دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل باراک اوباما اوباما اور
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔