بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کا غیر معروف این جی او کو دیے گئے مبصر کارڈز معطل کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش میں آئندہ قومی پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم سے قبل الیکشن کمیشن نے ایک اہم اور غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے ایک غیر معروف غیر سرکاری تنظیم کو دیے گئے ہزاروں انتخابی مبصر کارڈز معطل کر دیے ہیں۔ اس اقدام نے نہ صرف انتخابی شفافیت سے متعلق سوالات کو جنم دیا ہے بلکہ الیکشن کمیشن کے جانچ پڑتال کے نظام پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: طلبہ تنظیم کا الیکشن کمیشن کا دوسرے روز بھی گھیراؤ، مظاہرین کیا چاہتے ہیں؟
بنگلہ دیش الیکشن کمیشن نے پیپلز ایسوسی ایشن فار سوشل ایڈوانسمنٹ (پاشا) نامی ایک غیر معروف این جی او کو جاری کیے گئے 10 ہزار سے زائد انتخابی مبصر کارڈز عارضی طور پر معطل کر دیے ہیں۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ تنظیم کی عملی صلاحیت اور استعداد کی تصدیق نہ ہو سکنے کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ ہفتے کی رات دارالحکومت ڈھاکا میں اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جامونا کے باہر ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں سامنے آیا۔ چیف ایڈوائزر کے ڈپٹی پریس سیکریٹری محمد ابوالکلام آزاد مجمدار نے الیکشن کمیشن کے سیکریٹری اختر احمد کے حوالے سے بتایا کہ انتخابی تیاریوں کے جائزے کے دوران اس معاملے پر غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر کا انصاف پر مبنی نظام اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے پر زور
الیکشن کمیشن کے مطابق پاشا نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ملک بھر میں دس ہزار سے زائد مقامی انتخابی مبصر تعینات کرے گی، تاہم جانچ پڑتال کے بعد کمیشن تنظیم کی اس صلاحیت سے مطمئن نہ ہو سکا۔ اسی بنیاد پر مبصر کارڈز کی تقسیم روک دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تاحال تنظیم کے کسی سیاسی جماعت سے تعلق کے شواہد سامنے نہیں آئے، تاہم تحقیقات کا عمل جاری ہے۔
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب معروف اخبار پرتھم آلو نے ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ پاشا عملی طور پر ایک ہی فرد کے زیر انتظام ہے۔ رپورٹ کے مطابق تنظیم کا دفتر اس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید ہمایوں کبیر کی رہائش گاہ کے ایک کمرے میں قائم ہے اور وہی اس کے واحد فعال رکن ہیں۔
رپورٹ سامنے آنے کے بعد الیکشن کمیشن کے جانچ پڑتال کے طریقہ کار پر شدید تنقید کی گئی، جس کے بعد کمیشن نے تنظیم کی رجسٹریشن اور فیلڈ سطح پر صلاحیت کا ازسرِنو جائزہ لیا۔ حکام کے مطابق اس جائزے میں سنگین خدشات سامنے آئے، جس پر مبصر کارڈز معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
الیکشن کمیشن نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ آیا پاشا کی منظوری مستقل طور پر منسوخ کی جائے گی یا نہیں، تاہم مزید چھان بین جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بنگلہ دیش الیکشن بنگلہ دیش الیکشن کمیشن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بنگلہ دیش الیکشن بنگلہ دیش الیکشن کمیشن
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔