طالبان حکومت پر پابندی کا امکان، امریکی کمیشن نے افغانستان کو ’خاص توجہ والے ملک‘ قرار دینے کی تجویز دیدی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) نے صدر اور وزیر خارجہ سے درخواست کی ہے کہ افغانستان کو ’خاص توجہ والے ملک‘ یا خاص توجہ والے ملک کے طور پر نامزد کیا جائے، جس سے طالبان کے خلاف وسیع پیمانے پر بین الاقوامی پابندیاں عائد کرنے کا راستہ کھل سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:دہشتگردی کی نئی لہر، پاکستان، افغان طالبان اور خطے کا بحران
کمیشن کے رکن اسٹیفن شنیک نے افغانستان انٹرنیشنل کو بتایا کہ طالبان کی نئی نافذ کردہ جزائی ضابطہ اخلاق میں ایسے احکامات شامل ہیں جو مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے لیے شدید خطرہ ہیں۔
شنیک کے مطابق یہ ضابطہ صرف طالبان کے حنفی اسلام کی تشریح کو تسلیم کرتا ہے اور دیگر مذہبی مسلک یا فرقوں کو نظر انداز کرتا ہے۔ اس میں مخالفین کو قتل کرنے، غلامی کو تسلیم کرنے اور بعض رویوں جیسے رقص پر پابندی عائد کرنے کے احکامات شامل ہیں، جو بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہیں۔
شنیک نے کہا کہ افغانستان کو ’خاص توجہ والے ملک‘ قرار دینے سے طالبان کے خلاف مزید پابندیوں کی راہ ہموار ہو سکتی ہے اور بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر مشترکہ طور پر ردعمل ظاہر کرے۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک
انہوں نے زور دیا کہ طالبان کا ضابطہ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی خلاف ورزی اور ان پر غلامانہ سلوک کو بھی جائز قرار دیتا ہے، جو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
افغان طالبان نے حال ہی میں اپنے زیر کنٹرول عدالتوں کے لیے نیا جزائی ضابطہ نافذ کیا ہے، جس میں مختلف جرائم کے لیے پھانسی، کوڑے، اعضا کی کٹائی اور دیگر سخت سزائیں شامل ہیں۔
شنیک کے مطابق اس ضابطے سے افغانستان میں مذہبی آزادی، عقیدہ کی آزادی اور انسانی حقوق کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
اس تجویز پر عمل درآمد ہونے کی صورت میں طالبان کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے حوالے سے بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ ہوگا، اور یہ اقدام عالمی سطح پر افغانستان کے مستقبل پر اہم اثر ڈال سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔