اسلام آباد دہشت گردی: اقوام متحدہ اور او آئی سی کا شدید ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
اسلام آباد میں مسجد پر ہونے والے خودکش حملے پر عالمی برادری کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے بیان میں کہا کہ عبادت گاہوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس بزدلانہ حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔
دوسری جانب اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طحٰہ نے کہا کہ تنظیم ہر قسم کی دہشت گردی اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کی بھرپور مخالفت کرتی ہے اور ایسے اقدامات کو انسانیت کے خلاف جرم سمجھتی ہے۔
اسی طرح قطر نے بھی اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی، عبادت گاہوں پر حملے اور بے گناہ شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانے جیسے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں۔ قطر نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔