کوئٹہ میں دفعہ 144؛ ہڑتال اور احتجاج کی اجازت نہیں ؛ ضلعی انتظامیہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
سٹی 42: دفعہ 144 کے نفاذ کے دوران پہیہ جام، شٹر ڈاؤن، زبردستی دکانیں بند کروانا کی اجازت نہیں ہے ۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق دفعہ 144کے تحت سڑکیں بلاک کرنا یا کسی بھی قسم کی ہڑتال کی قطعی اجازت نہیں دی جاسکتی، شہر میں دفعہ 144 نافذ العمل ہے،دفعہ 144کا مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، امن و امان کی بحالی اور معمولات زندگی کو برقرار رکھنا ہے،دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والے افراد،تنظیمیں یا سہولت کاروں کے خلاف قانون ہوگی،ذمہ دار عناصر کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتارکیا جائے گا،ضلعی انتظامیہ کا شہریوں سے اپیل کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں۔افواہوں پر کان نہ دھریں اور شہر کے امن و استحکام کو برقرار رکھنے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس کے ٹرائل کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔