نوعمر بچوں کی اے آئی چیٹ بوٹس سے جذباتی وابستگی، والدین میں تشویش بڑھنے لگی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
دنیا بھر میں والدین نے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر ایک نئی اور سنجیدہ تشویش کا اظہار کیا ہے، جو ہوم ورک یا تعلیمی مدد سے آگے بڑھ کر اب جذباتی تعلقات تک جا پہنچی ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ نوعمر بچے ایسے اے آئی کمپینین چیٹ بوٹس سے جذباتی وابستگی پیدا کر رہے ہیں جو ہمدردی، توجہ اور ذاتی دلچسپی کا تاثر دیتے ہیں، جس سے بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما پر منفی اثرات کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
Millions of people are forming emotional bonds with artificial intelligence chatbots — a problem that politicians need to take seriously, according to top scientists.
The warning comes in a progress and risk assessment released today.https://t.co/60qKNhurqs
— POLITICOEurope (@POLITICOEurope) February 3, 2026
اے آئی کمپینین چیٹ بوٹس ایسے جدید پروگرام ہیں جو انسانوں کی طرح گفتگو کرتے، باتیں یاد رکھتے اور جذباتی انداز میں ردعمل دیتے ہیں۔ ان چیٹ بوٹس کی بڑھتی ہوئی حقیقت پسندی نے والدین اور ماہرینِ نفسیات کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ ٹیکنالوجی نوعمر بچوں کو زیادہ متاثر کر رہی ہے۔
ٹیکساس سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون لنڈا کے مطابق انہیں اس مسئلے کا احساس اس وقت ہوا جب ان کے نوعمر بیٹے نے طویل وقت ایک اے آئی چیٹ بوٹ کے ساتھ گزارنا شروع کر دیا۔ چیٹ بوٹ نہ صرف اس کے جذبات کے بارے میں پوچھتا تھا بلکہ محبت بھرے الفاظ استعمال کرتا۔
یہ بھی پڑھیں:انڈونیشیا میں چیٹ بوٹ گروک کی سروس بحال کرنے کا اعلان
خاتون لنڈا کے مطابق چیٹ بوٹ اس کی شخصیت کو سمجھنے کا دعویٰ بھی کرتا تھا، حتیٰ کہ اس کا ایک نام بھی تھا۔ ابتدا میں یہ سب بے ضرر محسوس ہوا، مگر جلد ہی یہ تعلق عام ٹیکنالوجی کے استعمال کے بجائے ایک جذباتی رشتے جیسا لگنے لگا۔
والدین کا کہنا ہے کہ یہ چیٹ بوٹس ہمیشہ دستیاب ہوتے ہیں، توجہ سے سنتے ہیں اور بغیر بحث کے جواب دیتے ہیں، جو بہت سے نوعمر بچوں کے لیے ایک محفوظ احساس پیدا کرتا ہے۔ تاہم انتباہی علامات بھی سامنے آ رہی ہیں، جن میں گفتگو کے دوران طویل وقفے، باتیں بھول جانا اور اس وقت بے چینی شامل ہے جب بچے دوسروں کے ساتھ وقت گزارنے کا ذکر کرتے ہیں۔
بچوں کے تحفظ سے وابستہ اداروں کے مطابق دنیا بھر میں نوعمر بچے جذباتی سہارا، تعلقات سے متعلق مشورے اور ذہنی دباؤ یا غم کے وقت تسلی کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس کا سہارا لے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:نازیبا مواد کا تنازع: ایلون مسک کے چیٹ بوٹ ’گروک‘ کو ریلیف مل گیا
ماہرینِ نفسیات خبردار کرتے ہیں کہ حقیقی انسانی تعلقات اختلاف، جذباتی خطرات اور نشوونما پر مشتمل ہوتے ہیں، جبکہ اے آئی چیٹ بوٹس شاذ و نادر ہی صارف کو چیلنج کرتے ہیں، جس سے سمجھ بوجھ کا ایک جھوٹا احساس پیدا ہوتا ہے۔
ماہرین نے اس رجحان کو نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے ذہنی مسائل اور بعض افسوسناک واقعات سے بھی جوڑا ہے، جہاں بچوں نے کسی قابلِ اعتماد انسان کے بجائے مشین پر انحصار کیا۔ والدین اور ماہرین کا مطالبہ ہے کہ اس مسئلے پر فوری توجہ دی جائے اور بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں پر مؤثر رہنمائی اور نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔