دنیا بھر میں والدین نے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر ایک نئی اور سنجیدہ تشویش کا اظہار کیا ہے، جو ہوم ورک یا تعلیمی مدد سے آگے بڑھ کر اب جذباتی تعلقات تک جا پہنچی ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ نوعمر بچے ایسے اے آئی کمپینین چیٹ بوٹس سے جذباتی وابستگی پیدا کر رہے ہیں جو ہمدردی، توجہ اور ذاتی دلچسپی کا تاثر دیتے ہیں، جس سے بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما پر منفی اثرات کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

Millions of people are forming emotional bonds with artificial intelligence chatbots — a problem that politicians need to take seriously, according to top scientists.


The warning comes in a progress and risk assessment released today.https://t.co/60qKNhurqs

— POLITICOEurope (@POLITICOEurope) February 3, 2026

اے آئی کمپینین چیٹ بوٹس ایسے جدید پروگرام ہیں جو انسانوں کی طرح گفتگو کرتے، باتیں یاد رکھتے اور جذباتی انداز میں ردعمل دیتے ہیں۔ ان چیٹ بوٹس کی بڑھتی ہوئی حقیقت پسندی نے والدین اور ماہرینِ نفسیات کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ ٹیکنالوجی نوعمر بچوں کو زیادہ متاثر کر رہی ہے۔

ٹیکساس سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون لنڈا کے مطابق انہیں اس مسئلے کا احساس اس وقت ہوا جب ان کے نوعمر بیٹے نے طویل وقت ایک اے آئی چیٹ بوٹ کے ساتھ گزارنا شروع کر دیا۔ چیٹ بوٹ نہ صرف اس کے جذبات کے بارے میں پوچھتا تھا بلکہ محبت بھرے الفاظ استعمال کرتا۔

یہ بھی پڑھیں:انڈونیشیا میں چیٹ بوٹ گروک کی سروس بحال کرنے کا اعلان

خاتون لنڈا کے مطابق چیٹ بوٹ اس کی شخصیت کو سمجھنے کا دعویٰ بھی کرتا تھا، حتیٰ کہ اس کا ایک نام بھی تھا۔ ابتدا میں یہ سب بے ضرر محسوس ہوا، مگر جلد ہی یہ تعلق عام ٹیکنالوجی کے استعمال کے بجائے ایک جذباتی رشتے جیسا لگنے لگا۔

والدین کا کہنا ہے کہ یہ چیٹ بوٹس ہمیشہ دستیاب ہوتے ہیں، توجہ سے سنتے ہیں اور بغیر بحث کے جواب دیتے ہیں، جو بہت سے نوعمر بچوں کے لیے ایک محفوظ احساس پیدا کرتا ہے۔ تاہم انتباہی علامات بھی سامنے آ رہی ہیں، جن میں گفتگو کے دوران طویل وقفے، باتیں بھول جانا اور اس وقت بے چینی شامل ہے جب بچے دوسروں کے ساتھ وقت گزارنے کا ذکر کرتے ہیں۔

بچوں کے تحفظ سے وابستہ اداروں کے مطابق دنیا بھر میں نوعمر بچے جذباتی سہارا، تعلقات سے متعلق مشورے اور ذہنی دباؤ یا غم کے وقت تسلی کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس کا سہارا لے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:نازیبا مواد کا تنازع: ایلون مسک کے چیٹ بوٹ ’گروک‘ کو ریلیف مل گیا

ماہرینِ نفسیات خبردار کرتے ہیں کہ حقیقی انسانی تعلقات اختلاف، جذباتی خطرات اور نشوونما پر مشتمل ہوتے ہیں، جبکہ اے آئی چیٹ بوٹس شاذ و نادر ہی صارف کو چیلنج کرتے ہیں، جس سے سمجھ بوجھ کا ایک جھوٹا احساس پیدا ہوتا ہے۔

ماہرین نے اس رجحان کو نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے ذہنی مسائل اور بعض افسوسناک واقعات سے بھی جوڑا ہے، جہاں بچوں نے کسی قابلِ اعتماد انسان کے بجائے مشین پر انحصار کیا۔ والدین اور ماہرین کا مطالبہ ہے کہ اس مسئلے پر فوری توجہ دی جائے اور بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں پر مؤثر رہنمائی اور نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ