محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو 8 فروری کے احتجاج میں شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو 8 فروری کے احتجاج میں شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل WhatsAppFacebookTwitter 0 7 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم شہباز شریف کو 8 فروری کے احتجاج میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل کردی۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اپنے بیان میں کہا کہ کل پورے ملک میں عوام نے اپنے مینڈیٹ چرانے میں غضے کا اظہار دکانیں بند کرکے کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ بھی عوام کے اس سوگ میں شامل ہوجائیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عوام سے اپیل کرتے ہیں ہم نے جذباتی نہیں ہونا۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ملکی حالات ایسے نہیں کہ عوام کو جذباتی کیا جائے۔ آج ہم اپنی بوئی ہوئی فصل کی کٹائی کررہے ہیں اور پاکستان کو دوسروں کی جنگ میں جھونک چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دین میں جبر کرنے سے منع کیا گیا ہے، ہمارے اپنے اعمال کی وجہ سے پاکستان مشکل میں ہے، ہم نے جو کچھ کیا اس میں اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی بھی شامل ہے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ 25 کروڑ عوام کو بندوق کی نوک پر ہراساں کیا گیا، ہم کسی ایجنسی یا ادارے کے خلاف نہیں بلکہ آئین کی بالادستی چاہتے ہیں کیونکہ دستور نے ہمیں اکھٹا کر کے رکھا ہے مگر اس کو پھاڑا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناانصافی سے ملک نہیں چلتا، آج وفاداری بیچنے والوں کو 90 کروڑ روپے دیے جاتے ہیں جبکہ غریب مرتا ہے تو تیس چالیس لاکھ دے دیے جاتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹی 20 ورلڈکپ: روماریو شیفرڈ کی شاندار ہیٹ ٹرک، ویسٹ انڈیز نے اسکاٹ لینڈ کو 35 رنز سے ہرا دیا ٹی 20 ورلڈکپ: روماریو شیفرڈ کی شاندار ہیٹ ٹرک، ویسٹ انڈیز نے اسکاٹ لینڈ کو 35 رنز سے ہرا دیا وزارت خارجہ میں اعلی سطح پر تبدیلیاں،ترجمان سمیت متعدد سفراء تبدیل پی ٹی آئی نے زیرِ حراست قائد تک رسائی کا معاملہ اٹھایا جو متعلقہ حکام کو بھجوایا گیا: سپریم کورٹ اعلامیہ نواز شریف نے بھی اندرون لاہور بسنت منائی، ڈور اورگڈا بھی پکڑا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: ویسٹ انڈیز نے اسکاٹ لینڈ کو 35 رنز سے ہرا دیا وفاقی وزیر داخلہ کا لنڈی کوتل کا دورہ، شہیدکیپٹن کے اہلخانہ سے تعزیتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔