ٹرمپ کی دھمکی کے باوجود فرانس اور کینیڈا نے گرین لینڈ میں قونصل خانے کھول دیے
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں اور دباؤ کے باوجود فرانس اور کینیڈا نے ڈنمارک کے ساتھ اپنی عملی حمایت کا اعلان کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس اور کینیڈا نے گرین لینڈ کے دارالحکومت نونُوک میں اپنا قونصل خانہ باضابطہ طور پر کھول دیا۔
دونوں ممالک کے اس اقدام کو ڈنمارک کے ساتھ اپنی حمایت اور تعاون کے طور پر پیش کیا گیا ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب صدر ٹرمپ نے دوسری بار گرین لینڈ پر ملکیت کا دعویٰ کیا ہے۔
فرانسیسی سفیر کرسٹوپ پیرِسوٹ اور نئے فرانسیسی قونصل جنرل ژاں نویل پوئریئر نے گرین لینڈ کے دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو بھی کی۔
انھوں نے کہا کہ میں کہا کہ فرانس کا قونصل خانہ گرین لینڈ اور ڈنمارک کے ساتھ دوستی اور یکجہتی کا مظہر ہے جس کا مقصد امریکا کو کوئی پیغام دینا نہیں ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ مضبوط تعلقات اسی وقت بنتے ہیں جب مشکلات میں دوست ساتھ کھڑے ہوں اور فرانس اس عزم کے ساتھ حاضر ہے۔
اسی دن کینیڈا کے وزیرِ خارجہ انیتا آنند اور کینیڈین گورنر جنرل مریم سائمن نے کینیڈا کے قونصل خانے کا افتتاح کیا اور سرکاری پرچم لہرایا کیا۔
گلوبل افیئرز کینیڈا نے ایک پوسٹ میں کہا کہ کینیڈا اور گرین لینڈ کے درمیان دنیا کی سب سے طویل سمندری سرحد کے ساتھ آرکٹک میں کئی صدیوں سے جڑے تعلقات ہیں۔
یاد رہے کہ کینیڈا نے دسمبر 2024 میں جب کہ فرانس نے جون 2025 میں گرین لینڈ میں قونصل خانے کھولنے کا اعلان کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کینیڈا نے گرین لینڈ کے ساتھ کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔