پڑھو گے، لکھو گے، بنو گے نواب … لیکن کیسے؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
غریب اور متوسط طبقے کے مسائل پہلے ہی کیا کم تھے کہ رہی سہی کسر ہمارے Confused تعلیمی نظام نے، بالخصوص والدین کو نفسیاتی اور ذہنی الجھنوں میں مبتلا کر کے پوری کردی،کیسے؟ وہ ایسے کہ ’’ بچوں کا داخلہ کہاں کروائیں،کہاں نہیں‘‘۔
آج کل کے پریشان ترین مسئلوں میں سے ایک ہے،کافی دوڑ دھوپ اور چھان پھٹک کے بعد حاصل ہونے والی ناکامی بالآخر،گھر سے قریب والے اسکول کے حق میں فیصلہ کروا ہی لیتی ہے۔ نئے سال کے آغازکے ساتھ ہی اسکولوں میں داخلوں کا آغاز بھی بس اب ہوا ہی چاہتا ہے۔
اب ہمارے یہاں کے اسکولوں کی Categories سے تو آپ سب لوگ اچھی طرح واقف ہی ہیں، کچھ تو ایسے ہیں کہ جہاں غریب والدین کے لیے اپنے بچوں کا داخلہ بس ایک خواب ہی ہے، بھئی! یہ خواب ہی توکہلائے گا کہ بالفرض ایک ایسا شخص جس کی تنخواہ 30 یا 40 ہزار روپے ماہوار ہو تو پھر اُس کے لیے 15 سے 20 ہزار کے درمیان ہر ماہ ادا ہوتی شاندار اسکولوں کی فیس کا بوجھ اُٹھانا کیونکر ممکن ہو سکے گا۔
اور اگر والدِ محترم خالصتا مزدوروں والی کمائی کما رہے ہو ں تو پھر تو اُن کے لیے لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کا داخلہ ’’پیلے‘‘ کا لیبل چپکائے کسی سرکاری اسکول میں چُپ چاپ کروا آئیں۔ غریب والدین چاہتے تو ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو اچھے اور معیاری اسکولوں میں تعلیم دلوائیں، لیکن بیچارے بس ایک ٹھنڈی ’’آہ‘‘ بھر کر ہی رہ جاتے ہیں۔
نفسیاتی الجھنوں کی وضاحت کے بعد اب بات ہوجائے درمیانے درجے پر فائز اسکولوں کی، یہ اسکول کافی تعداد میں موجود ہوتے ہیں، ان کی فیس اگرچہ کہ بہت کم نہیں، تو بہت زیادہ بھی نہیں ہوتی ہے، لیکن داخلے کے لیے دل، وہاں بھی نہیں مانتا۔
وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایسے اسکول بظاہر دیکھنے میں تو صاف ستھرے ، سرسبز و شاداب، کشادہ اور آرام دہ معلوم ہوتے ہیں، لیکن جب تعلیمی معیارکے حوالے سے ان کا جائزہ لیا جائے تو نتائج مایوس کنُ ہی نکلتے ہیں،چند بڑی وجوہات میں سے ایک کم تنخواہوں پر اساتذہ کی بھرتیاں ہیں۔
قابل ٹیچرزکی دستیابی تنخواہوں کی مد میں مختص کیے گئے مختصر ترین بجٹ سے بھلا کیونکر ممکن ہوسکے گی، پھر تنخواہوں ہی کے چکر میں ٹیچرزکی ایک اسکول سے دوسرے اسکول میں تواتر سے ہوتی Switching بھی ’’ تسلسل‘‘ سے جڑ ے معیارکو نقصان پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہوتی ہے۔
خیر، پھر جنابِ عالیٰ باری آتی ہے گلی، محلوں، بلڈنگوں اورکالونیوں میں کھُلے اسکولوں کی۔ یہ اسکول جیسے بھی ہوں اُن والدین کے لیے تو راحت کا سامان کیے رکھتے ہیں کہ جن کے لیے فاصلے اور دُوریوں پر حاصل ہوتی تعلیم (آج کل کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے) غیر محفوظ اور جیب پر ایک بھاری بھرکم بوجھ تصورکی جاتی ہے۔
ہر بڑے شہر میں چار، چھ اسکول ایسے بھی ہوتے ہیں جو والدین کی مطلوبہ ضروریات پر پورا اترتے نظر آتے ہیں، لیکن وہاں مسئلہSeats کا آجاتا ہے۔ ایسے اسکول ہوتے ہی گنتی کے ہیں کس،کس کو اپنے اندر سموئیں گے، جب بھی کہیں ان اسکولوں کا ذکر آتا ہے تو مجھے آذر اور زینا یاد آجاتے ہیں۔
دونوں میرے اچھے دوست ہیں اور آج کل کینیڈا میں مقیم ہیں۔ جن دنوں کراچی میں تھے تو اپنی بیٹی کے ایڈمیشن کے لیے بہت پریشان تھے،آذرکی والدہ پرانے خیالات کی حامل بہت جہاندیدہ خاتون تھیں۔ چھوٹی تو نہیں، البتہ بڑی کلاسوں میں لڑکے اور لڑکیوں کے کافی ’’ قصے‘‘ سن اور دیکھ رکھے تھے۔
کہتی تھیں کہ پوتی کو کسی صورت Co-Education والے اسکول میں نہیں پڑھوانا۔ بیٹی کے ایڈمیشن کے لیے میں نے بالخصوص آذرکو بہت پریشان اور فکر مند دیکھا تھا، ماں، باپ پرائیویٹ اسکول میں تعلیم دلوانے کی پوزیشن میں نہیں تھے، اس لیے آذر نے ایک سرکاری اسکول سے تعلیم حاصل کی تھی۔
تعلیمی دور میں A سے pple A اور B سے Ball کافی سالوں بعد اس وقت نظروں کے سامنے آئے تھے کہ جب چڑیا (تقریبا) سارا ہی کھیت چُگ چُکی تھی۔کمپیوٹرکا نام ونشان تو خیر سے پورے تعلیمی کیریئر میں کہیں تھا ہی نہیں، آذرکے اسکول میں دی جانے والی تعلیم کیونکہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اور مطلوبہ عالمی معیار سے مطابقت نہیں رکھتی تھی، اسی لیے زندگی کے ہر موڑ پر،کہیں نہ کہیں اس کے اثرات کا سامنا رہا۔
خاص طور سے جدید تقاضوں اور عالمی معیارکے حامل، نئے دورکے پیشہ وارانہ ماحول میں سنبھل، سنبھل کر اپنی جگہ بناتے کافی وقت لگ گیا تھا اُسے ۔
یہی وجہ تھی کہ آذر اور زینا کو بھی، تلاش ایک ایسے اسکول کی تھی کہ جہاں فیس کم ہو، مخلوط تعلیمی نظام کا حامل نہ ہو، نامور ہو اور سب سے بڑھ کر،جہاں انگریزی بھی فر فر بولی جاتی ہو۔
کافی تلاش کیا پھر ان کی نظروں کو پورے شہر میں ’’دو‘‘ اسکول ہی ایسے دکھے جو ان کی خواہشات اور ضروریات پر پورا اُتر رہے تھے۔ آذر وہاں سے رجسٹریشن فارم لے آیا تھا، خوب زور و شور سے تیاریاں جاری تھیں، دونوں نے کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی تھی، ٹیسٹ کی تیاری کے لیے بیٹی نے ایک بہت ہی عمدہ سینٹر میں جانا شروع کردیا تھا۔
لیکن پھر قسمت کوکچھ اور ہی منظور تھا،کچھ عرصے بعد ہی وہ لوگ ملک چھوڑ چکے تھے، بچے اب کینیڈا کے اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، بہت خوش اور مطمئن ہیں۔ اسکولوں کا احوال تو کافی حد تک آپ لوگوں نے جان لیا۔ اب مسئلہ مسائل کے حل کی تلاش ہے… ہونا کیا چاہیے؟
سب سے پہلے تو تعلیمی اداروں پر لگا کرپشن کا بدنما داغ دھلنا چاہیے،تاکہ بدعنوانیوں کی فہرست میں سرفہرست دکھنے والا یہ مقدس پیشہ اُس خراب جگہ سے ہٹ کر اپنا معتبر مقام حاصل کر سکے، پھر اُس کے بعد زیادہ کچھ نہیں ہوسکتا تو اربابِ اختیار صرف اتنی مہربانی ہی کردیں کہ موجودہ منظر نامے کو پلٹا دیں۔
یعنی سرکاری اسکول ایسے بنا دیے جائیں کہ پھر وہاں والدین کی طویل قطاریں لگی نظر آئیں، ہر شخص حکومتی سرپرستی میں چلنے والے اسکولوں میں داخلے کا خواہشمند ہو، وہاں سیٹس کا مسئلہ درپیش آئے تو پھر والدین ( بہ حالتِ مجبوری) پرائیویٹ اسکولوں کا رخ کریں ، بس اتنا کر لیں پھر اثر دیکھیں، فوائد شرطیہ اورگارنٹڈ ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسکولوں کی اسکول میں ہوتے ہی کے لیے
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔