کراچی، جو کبھی روشنیوں، صنعتوں اور مواقعے کا شہر کہلاتا تھا، مواقع سے مراد وہ تمام حالات اور سہولیات جو شہریوں کو معاشی، تعلیمی، سماجی اور کاروباری ترقی کے لیے فائدہ اٹھانے کا امکان فراہم کرتے ہیں، آج بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی علامت بنتا جا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں کراچی میں گیس کی غیر اعلانیہ بندش نے گھریلو خواتین، مزدور طبقے، طلبہ اور بزرگوں کو یکساں طور پر متاثرکیا ہے۔ صبح کے وقت ناشتہ بنانا ہو یا رات کوکھانا پکانا، ہر مرحلہ صبر، انتظار اور بے بسی کی علامت بن چکا ہے۔
شہریوں کوکبھی کم پریشرکا سامنا ہوتا ہے توکبھی مکمل بندش کا، جب کہ متعلقہ اداروں کی جانب سے وضاحتیں، بیانات اور وعدے زمینی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یہ بحران محض تکنیکی یا انتظامی نہیں بلکہ سماجی، معاشی اور نفسیاتی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔
ایک طرف صنعتی اورکمرشل صارفین کو ترجیح دی جاتی ہے، تو دوسری جانب عام شہری اپنی بنیادی ضرورت کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ اس صورتحال نے ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کے رشتے کو کمزورکردیا ہے، جہاں سوال یہ نہیں کہ مسئلہ کیوں پیدا ہوا، بلکہ یہ ہے کہ اس کا مستقل حل، کب اور کیسے ممکن ہوگا۔
یہ شہر جو کبھی ملک کی معاشی شہ رگ کہلاتا تھا، آج بنیادی سہولیات کے شدید فقدان کا شکار ہے۔ پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صحت کے مسائل اپنی جگہ، مگرگیس کا بحران ایک ایسی آزمائش بن چکا ہے جس نے گھریلو زندگی، معاشی سرگرمیوں اور سماجی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
کراچی میں گیس کا بحران کوئی نیا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ کئی دہائیوں سے مختلف صورتوں میں موجود ہے، مگر حالیہ صورتحال نے اس بحران کو ایک نئی شدت دے دی ہے۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں یا تو گیس مکمل طور پر بند ہے یا اتنا کم پریشر ہے کہ کھانا پکانا ممکن نہیں رہا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں پرانے صارفین کی گیس مکمل بند ہے، عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صبح کے اوقات میں ناشتے کے لیے گیس دستیاب نہیں ہوتی، دوپہر میں کھانا پکانے کے وقت پریشر ختم ہو جاتا ہے اور رات کو چولہے مکمل طور پر ٹھنڈے پڑے رہتے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف گیس دستیاب نہیں اور دوسری طرف بھاری بلز نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ یہ صورتحال اس صوبے کے عوام کے لیے مزید تکلیف دہ ہے جو ملک کی گیس پیداوارکا 70 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے، مگر خود بنیادی سہولت سے محروم ہے۔
گیس بحران کے براہ راست اثرات گھریلو زندگی پر سب سے زیادہ مرتب ہو رہے ہیں۔ گھریلو خواتین کے لیے کھانا پکانا ایک مستقل ذہنی دباؤ بن چکا ہے۔ شہری مہنگی ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں، جو پہلے ہی مہنگائی کے ستائے ہوئے بجٹ پر ایک اضافی بوجھ ہے۔
ایل پی جی کے بڑھتے استعمال نے نہ صرف گھریلو اخراجات میں اضافہ کیا ہے بلکہ حفاظتی خدشات بھی پیدا کیے ہیں، کیونکہ غیر معیاری سلنڈرز اور ناقص تنصیبات حادثات کا سبب بن سکتی ہیں۔اس بحران کے اثرات گھریلو دائرے تک محدود نہیں رہے بلکہ معاشی سرگرمیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
گیس لوڈ شیڈنگ کے باعث صنعتیں متاثر ہو رہی ہیں اور صنعتی پہیہ سست روی یا مکمل جمود کا شکار ہے۔ چھوٹے کارخانے، بیکریاں، دودھ فروش، مٹھائی اورکنفیکشنری بنانیوالے، پکوان ہاؤسز اور ہوٹل مالکان سبھی اس بحران کی لپیٹ میں ہیں۔ ایک طرف گھروں میں کھانا پکانا ممکن نہیں رہا تو دوسری طرف ہوٹلوں پر رش بڑھ گیا ہے، جس سے شہریوں کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے اور عام آدمی مزید مالی دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔
شہریوں میں یہ تاثر بھی مضبوط ہو رہا ہے کہ شہر میں ایک مصنوعی بحران پیدا کیا جا رہا ہے تاکہ صارفین کو قدرتی گیس کے بجائے ایل پی جی کے استعمال کی طرف راغب کیا جا سکے، اگرچہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ صورتحال بہتر ہو رہی ہے، مگر زمینی حقائق اس بیان کی تردید کرتے ہیں۔
گیس کی غیر مساوی تقسیم، پرانے اور نئے صارفین کے درمیان فرق اور بغیر کسی واضح شیڈول کے بندش نے اعتماد کا شدید بحران پیدا کردیا ہے۔ یہ سوال بھی شدت اختیارکر رہا ہے کہ جب گیس کی دستیابی پہلے ہی محدود ہے تو نئے کنکشنزکا اجرا کس منطق کے تحت کیا جا رہا ہے اورکیا یہ اقدام پرانے صارفین کے ساتھ ناانصافی نہیں۔
اس سنگین مسئلے پر سیاسی جماعتوں اور معزز شہریوں کی خاموشی بھی حیران کن ہے۔وہ ملک جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس کے پاس گیس کے اتنے ذخائر ہیں کہ دہائیوں تک عوام کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں، آج اسی ملک کے سب سے بڑے شہرکے باسی ایک وقت کی روٹی پکانے کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے محض بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کریں۔ سب سے پہلے گیس کی تقسیم میں شفافیت اور مساوات کو یقینی بنایا جائے، تاکہ پرانے اور نئے صارفین کے درمیان امتیاز ختم ہو۔ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے بجائے واضح شیڈول جاری کیا جائے تاکہ شہری اپنی روزمرہ زندگی کی منصوبہ بندی کر سکیں۔
گیس کے نئے کنکشنزکے اجرا کو عارضی طور پر روکا جائے جب تک موجودہ صارفین کو مناسب فراہمی ممکن نہ ہو۔ ایس ایس جی سی کے نظام کی جامع آڈٹ اور احتسابی عمل شروع کیا جائے تاکہ بدانتظامی اور ممکنہ کرپشن کا سدباب ہو سکے۔
ایل پی جی کی قیمتوں اور معیارکو ریگولیٹ کیا جائے تاکہ عوام کو محفوظ اور سستا متبادل میسر آسکے۔ صنعتی شعبے کے لیے علیحدہ اور یقینی سپلائی کا انتظام کیا جائے تاکہ معیشت کا پہیہ جام نہ ہو۔
سب سے بڑھ کر، توانائی کے طویل المدتی منصوبوں پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے، مقامی وسائل کے مؤثر استعمال اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے گیس کی پیداوار اور ترسیل کو بہتر بنایا جائے، تاکہ کراچی کے شہری ایک بار پھر اپنے گھروں میں جلتے چولہوں کے ساتھ باعزت زندگی گزار سکیں۔
ضرورت اس امرکی ہے کہ اس بحران کو وقتی بندوبست کے بجائے ایک مستقل اور منظم پالیسی کے تحت حل کیا جائے، جہاں سب سے پہلے گیس کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے نظام کا شفاف اور غیر جانبدارانہ آڈٹ کیا جائے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ قلت قدرتی ہے یا بدانتظامی کا نتیجہ۔
شہری علاقوں اور صنعتی صارفین کے درمیان ترجیحات کا ازسر ِنو تعین ناگزیر ہے، کیونکہ گھریلو صارفین کی بنیادی ضرورت کو نظراندازکرکے صنعت کو بلا رکاوٹ گیس فراہم کرنا سماجی ناانصافی کے مترادف ہے۔
پرانی اور بوسیدہ پائپ لائنوں کی فوری مرمت اور مرحلہ وار تبدیلی کے بغیر لائن لاسزکم نہیں کیے جاسکتے، اس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی کنکشنز اورگیس چوری کیخلاف مؤثر، مسلسل اور بلاامتیاز کارروائی ضروری ہے۔
متبادل توانائی کے ذرائع، خصوصاً ایل این جی، بائیو گیس اور شمسی توانائی کے فروغ کے لیے شہری سطح پر عملی منصوبہ بندی کی جائے تاکہ گھریلو صارفین پر انحصار کم ہو۔ عوامی آگاہی مہم کے ذریعے صارفین کو ذمے دارانہ استعمال کی ترغیب دی جائے، جب کہ شکایات کے ازالے کے لیے مقامی سطح پر فعال اور جوابدہ نظام قائم کیا جائے۔
سب سے بڑھ کر، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان واضح ذمے داریوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی جائے تاکہ فیصلے کاغذوں سے نکل کر عملی صورت اختیارکریں اورکراچی کے شہریوں کو بنیادی سہولت کے لیے روزانہ کی اذیت سے نجات مل سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کیا جائے تاکہ کھانا پکانا صارفین کو کے درمیان صارفین کے ایل پی جی جا رہا ہے کے ساتھ کیا جا گیس کی کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔