عمان:امریکا ‘ایران مذاکرات ختم ‘دوسرا دور آئندہ ہفتے شروع ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مسقط/ واشنگٹن/تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران اور امریکا کے درمیان عمان میں جوہری مذاکرات کاپہلا دور مکمل ہوگیا۔مذاکرات میں ایرانی وفد کی نمائندگی ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کی جبکہ امریکا کی نمائندگی امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر نے کی۔ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ عمان میں امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات کا تازہ ترین دور اختتام پذیر ہو گیا ہے، جس کے بعد دونوں وفود اپنے اپنے ممالک واپس روانہ ہوں گے۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایرانی وفد کے ساتھ موجود ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے ایک رپورٹر نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کئی گھنٹوں تک جاری رہے۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بھی مذاکرات کے اختتام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق پایا گیا ہے۔مذاکرات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ بات چیت مثبت رہی دوسری جانب ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ سفارت کاری ناکام ہوئی تو صدر ٹرمپ کے پاس دیگر آپشنز بھی ہیں۔رپورٹ کے مطابق جمعے کی صبح شروع ہونے والے اس اجلاس کے دوران ایران اور امریکا کے مذاکراتی وفود نے اپنے اپنے مؤقف، تحفظات اور طریقہ کار عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے ذریعے ایک دوسرے تک پہنچائے۔دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور ہونے کی تصدیق کردی ہے۔صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے پہلے دور کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ جمعہ کوہوئے مذاکرات کے نتائج اچھے آئے ہیں۔ ایران امریکا سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ ایران کے ساتھ اگلا ہفتے پھر مذاکرات ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران ڈیڑھ سال پہلے کے مقابلے میں اس بار عمل کے لیے کہیں زیادہ تیار ہے۔ ایک موقع پر صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران کیساتھ جوہری ہتھیار نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے واشنگٹن چاہتا ہے ایران یورینیم افزودگی مکمل طور پر روکے اور بیلسٹک میزائلوں کی پیداوار کو محدود کرے۔دوسری جانب عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام قومی دفاع کا معاملہ ہے اور یہ کسی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ مسقط میں امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے دوران امریکی وفد سے مصافحہ بھی ہوا۔عباس عراقچی نے کہا کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو ایران خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا، تاہم امریکی سرزمین پر حملے کا امکان نہیں ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ جوہری افزودگی ایران کا ناقابل تنسیخ حق ہے اور اسے جاری رہنا چاہیے، بمباری سے بھی وہ ہماری جوہری صلاحیتوں کو ختم نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ ہم افزودگی کے حوالے سے ایک یقین دہانی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہیں۔عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی تاہم امریکا اور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ بات چیت جلد ہونی چاہیے۔عباس عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ ایران کا میزائل پروگرام کسی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا کیونکہ یہ قومی دفاع کا معاملہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایرانی وزیر خارجہ امریکا کے ساتھ عباس عراقچی کا کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا مذاکرات کے
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔