پارلیمان کاان کیمرہ مشترکہ اجلاس بلایا جائے ‘اے این پی
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور ( مانیٹر نگ ڈ یسک )عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے مطالبہ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے علاقے تیراہ اور بلوچستان کی صورتحال پر پارلیمان کا ان کمیرہ مشترکہ اجلاس بلایا جائے۔اے این پی کے صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ تیراہ اور بلوچستان پر پارلیمان کا ان کیمرہ مشترکہ اجلاس بلایا جائے، معمولی قانون سازی پر اجلاس ہو سکتا ہے تو ان سنگین مسائل پر کیوں نہیں، تیراہ کے عوام کی جانیں اور مستقبل داؤ پر ہے، مسئلہ آپریشن نہیں بلکہ دہشت گردی ہے۔انہوں نے کہا کہ تیراہ کے حوالے سے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کا رویہ عوام کے لیے ناقابل برداشت ہوچکا ہے، سنجیدگی اختیار کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر ذمے داری ڈالی جا رہی ہے، بند کمروں میں فیصلے کیے گئے اور عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حالیہ واقعات کسی صورت معمولی نہیں ہیں اس پر سنجیدگی دکھائی جائے، بیک وقت مختلف مقامات پر حملے انٹیلی جنس کی سنگین ناکامی کی نشان دہی کرتا ہے، حملوں کو پسپا کیا گیا مگرسنگین خطرات اب بھی موجود ہیں۔ایمل ولی نے کہا کہ اے این پی ہر قسم کی شدت پسندی اور دہشت گردی کی مخالفت کرتی ہے، دہشت گردی اور شدت پسندی کے لیے کوئی جواز نہیں ہو سکتا، دہشت گردی کی آڑ میں عوام کو مزید محرومیوں میں دھکیلنے سے بھی حالات بہتر نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ آئین پر نامکمل عمل درآمد صورت حال کو مزید بگاڑ رہی ہے، پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔صدر اے این پی نے کہا کہ امام بارگاہ میں رونما ہونے والا واقعہ سنگین صورت حال کی ایک الم ناک مثال ہے، عوامی نیشنل پارٹی برسوں سے ان حالات کے بارے میں خبردار کرتی آ رہی ہے لیکن جواب میں ہم پر ہی الزامات لگائے گئے اور ہمارے راستے روکے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کے ایک حصے میں حالات کو مصنوعی طور پر نارمل دکھایا جا رہا ہے، ملک کے دوسرے حصے میں برسوں سے آگ بھڑک رہی ہے، پختونخوا اور بلوچستان طویل عرصے سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے ناسور کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ستم ظریفی ہے کہ اس آگ کا الزام بھی متاثرہ عوام پر دھرا جا رہا ہے، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں قائم حکومتیں عوامی مینڈیٹ کی پیداوار نہیں ہیں، حالات کے اصل ذمے دار وہ عناصر بھی ہیں جنہوں نے ان حکومتوں کو عوام پر مسلط کیا ہے۔ایمل ولی نے کہا کہ اب محض بیانات نہیں بلکہ شفاف، سنجیدہ اور ذمے دار فیصلوں کی ضرورت ہے، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سیکورٹی مسائل پر فوری طور پر مشترکہ اجلاس بلایا جائے، جامع اور مستقل پالیسی کے ذریعے دہشت گردی اور عوامی محرومیوں کا خاتمہ کیا جائے، اس کے سوا ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مشترکہ اجلاس بلایا جائے اور بلوچستان نے کہا کہ ا اے این پی رہی ہے
پڑھیں:
ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ چاہتے ہیں بانی پی ٹی آئی کا علاج ان کی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو۔
انہوں نے کہا کہ ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لیے یہ ملنے نہیں دے رہے، مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو کم از کم فیملی کو ملنے دیا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) رہنما جنید اکبر نے کہا ہے کہ جس دن بانی پی ٹی آئی محمود اچکزئی سےمطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا سہیل آفریدی وزیراعلیٰ ہوگا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو بدل نہیں سکتی۔
اُن کا کہنا تھا کہ جب تک بانی پی ٹی آئی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیراعلیٰ رہوں گا، کے پی میں ہماری حکومت فقط بانی چیئرمین ہی ختم کرسکتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ کے پی میں فارورڈ بلاک پروپیگنڈا ہے، جو اس لیے کیا گیا کہ وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کرالیا ہے، ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، کے پی حکومت عوام دوست بجٹ پیش کرے گی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ہمارا سارا فوکس صحت، تعلیم، زراعت، نوجوان اور جنگلات پر ہے، ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لارہے ہیں۔