data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(جسارت نیوز)رمضان المبارک کے دوران شہر میں پانی کی فراہمی کے نظام کو مستحکم اور بہتر بنانے کے لیے واٹر کارپوریشن نے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے شہر کی مرکزی پانی کی لائن میں موجود رساؤ ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق گلشنِ اقبال بلاک 19 میں واقع فیز ون کی مرکزی 84 انچ قطر کی پانی کی لائن میں رساؤ کی نشاندہی ہوئی تھی، جس کے بعد لائن کی مرمت اور بحالی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ لائن میں موجود تمام لیکیجز کو ختم کرنے کے لیے پیر کے روز دوپہر 12 بجے مرمتی کام کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ واٹر کارپوریشن کے مطابق پانی کی لائن کی مرمت کا مجموعی دورانیہ 96 گھنٹے مقرر کیا گیا ہے، جس کے دوران واٹر کارپوریشن کی خصوصی اور تکنیکی ٹیمیں موقع پر موجود رہیں گی اور مرمتی کام انجام دیں گی۔ ترجمان نے بتایا کہ مرمتی کام کی تکمیل کے لیے دھابیجی پمپنگ اسٹیشن سے شہر کو فراہم کیے جانے والے پانی کی مقدار عارضی طور پر کم کی جائے گی، جس کے باعث شہر کو یومیہ تقریباً 200 ملین گیلن پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم حب، گھارو سمیت دیگر پمپنگ اسٹیشنز سے پانی کی فراہمی معمول کے مطابق بلا تعطل جاری رہے گی۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ کراچی کو مجموعی طور پر یومیہ تقریباً 650 ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ عارضی کمی کے باوجود شہر کو یومیہ تقریباً 450 ملین گیلن پانی کی فراہمی جاری رکھی جائے گی۔ مرمتی کام کے باعث لانڈھی، کورنگی، ملیر، شاہ فیصل، گلشن، جناح، چنیسر، صدر، لیاری اور کلفٹن کے مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی متاثر رہنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ مرمت کے دوران لانڈھی اور شیرپاؤ ہائیڈرنٹس بھی عارضی طور پر بند رہیں گے۔ ترجمان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مرمتی کام کے دوران پانی کا باکفایت اور ذمہ دارانہ استعمال کریں۔

جسارت نیوز گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: واٹر کارپوریشن پانی کی فراہمی پانی کی لائن مرمتی کام کے دوران لائن میں

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ