شہر کی مرکزی پانی کی لائن میں موجود رساؤ ختم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(جسارت نیوز)رمضان المبارک کے دوران شہر میں پانی کی فراہمی کے نظام کو مستحکم اور بہتر بنانے کے لیے واٹر کارپوریشن نے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے شہر کی مرکزی پانی کی لائن میں موجود رساؤ ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق گلشنِ اقبال بلاک 19 میں واقع فیز ون کی مرکزی 84 انچ قطر کی پانی کی لائن میں رساؤ کی نشاندہی ہوئی تھی، جس کے بعد لائن کی مرمت اور بحالی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ لائن میں موجود تمام لیکیجز کو ختم کرنے کے لیے پیر کے روز دوپہر 12 بجے مرمتی کام کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ واٹر کارپوریشن کے مطابق پانی کی لائن کی مرمت کا مجموعی دورانیہ 96 گھنٹے مقرر کیا گیا ہے، جس کے دوران واٹر کارپوریشن کی خصوصی اور تکنیکی ٹیمیں موقع پر موجود رہیں گی اور مرمتی کام انجام دیں گی۔ ترجمان نے بتایا کہ مرمتی کام کی تکمیل کے لیے دھابیجی پمپنگ اسٹیشن سے شہر کو فراہم کیے جانے والے پانی کی مقدار عارضی طور پر کم کی جائے گی، جس کے باعث شہر کو یومیہ تقریباً 200 ملین گیلن پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم حب، گھارو سمیت دیگر پمپنگ اسٹیشنز سے پانی کی فراہمی معمول کے مطابق بلا تعطل جاری رہے گی۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ کراچی کو مجموعی طور پر یومیہ تقریباً 650 ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ عارضی کمی کے باوجود شہر کو یومیہ تقریباً 450 ملین گیلن پانی کی فراہمی جاری رکھی جائے گی۔ مرمتی کام کے باعث لانڈھی، کورنگی، ملیر، شاہ فیصل، گلشن، جناح، چنیسر، صدر، لیاری اور کلفٹن کے مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی متاثر رہنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ مرمت کے دوران لانڈھی اور شیرپاؤ ہائیڈرنٹس بھی عارضی طور پر بند رہیں گے۔ ترجمان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مرمتی کام کے دوران پانی کا باکفایت اور ذمہ دارانہ استعمال کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: واٹر کارپوریشن پانی کی فراہمی پانی کی لائن مرمتی کام کے دوران لائن میں
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔