data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260208-03-4
بھارت نے پاکستان سے ذلت آمیز شکست کے بعد اب تک اپنی اس شکست کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور وہ مستقل اپنی پراکسی کے ذریعے پاکستان کی سالمیت پر حملہ آوور ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔ خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں موجود مسجد وامام بارگاہ خدیجہ الکبری میں نماز جمعہ کے دوران جب نمازی حضرات سجدے کی حالت میں تھے ایک سفاک، ظالم خودکش دہشت گرد نے مذہبی آہنگی اور ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لیے حملہ کیا جو کہ اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی اور ملک کے استحکام پر براہ راست حملہ اور سنگین جرم کے مترادف ہے۔ اس دہشت گردی کے ذریعے دشمن ملک امن اور قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ سانحہ کھلی دہشت گردی ہے اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سابقہ حکمرانوں کی طرح موجودہ حکمراں پاکستان کے شہریوں کی جان ومال کو محفوظ بنانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔
اسلام آباد کی مسجد میں ہونے والے اس دھماکے میں اب تک 34 انسانی جانوں کا نقصان ہوا اور 170 کے قریب نمازی شدید زخمی ہیں اس دھماکے میں ہر لحاظ سے بھارت ہی ملوث ہے۔ بھارت نے پاکستان میں دہشت گردوں میں تین گنا انویسمنٹ بڑھا دی ہے۔ بھارت پاکستان سے ہونے والی جنگ میں عبرت ناک، ذلت آمیز شکست کے بعد پراکسیوں کے ذریعے جنگ لڑ رہا ہے۔ بھارت کی براہ راست جنگ لڑنے کی ہمت نہیں ہے۔ سانحہ اسلام آباد میں ملوث دہشت گردوں کے تانے بانے بھارت اور افغانستان سے جا کر ملتے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں نام ونہاد دہشت گردی کی جنگ کے خلاف پاکستان کو زبردستی اس جنگ میں دھکیلا جس کی سزا پاکستان آج تک بھگت رہا ہے۔
پاکستان کے سیکورٹی ادارے صرف حکمرانوں کی سیکورٹی اور ان کی حفاظت کے لیے مامور ہیں، انہیں عوام کے تحفظ کی کوئی فکر نہیں ہے۔ اسلام آباد کے افسوسناک سانحہ سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ دہشت گردوں نے اپنی آخری حدود کو چھو لیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی مسجد پر خودکش بمبارنے افغانستان سے دہشت گردی کی کارروائیوں کی تربیت حاصل کی اور ریکارڈ کے مطابق اس کا نام یاسر ہے اور وہ نوشہرہ کا رہائشی ہے۔ وہ متعدد مرتبہ افغانستان کا سفر بھی کر چکا ہے۔ افغانستان بردار ملک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اسلامی ملک بھی ہے۔ پاکستان کے افغانستان پر بڑے احسانات ہیں۔ لاکھوں افغانیوں کو چالیس سال تک پاکستان نے پناہ فراہم کی اور افغانیوں کو پاکستان میںکھل کر تجارت سمیت ہر کام کی بھرپور آزادی حاصل تھی لیکن ان سب کے باوجود افغانستان کی موجودہ حکومت پاکستان کے دشمن نمبر ایک بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں پوری طرح ملوث ہے اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو کہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ افغانستان کو اپنی سرزمین دہشت گردی کے نیٹ ورک کو فراہم نہیں کرنا چاہیے۔ اسلام آباد کی مسجد میں دہشت گردی میں ملوث دہشت گرد اور اس کے سہولت کار دین اور وطن کے دشمن ہیں۔ اس سے قبل مسیحی برادری کی عبادت گاہ پر بھی دہشت گردوں نے حملہ کرکے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی تھی اور اب ایک اور سانحہ رونما ہوا ہے جو کہ قومی سلامتی کے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سانحہ اسلام آباد میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف آہنی ہاتھ استعمال کرے۔
رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور اس موقع پر اس طرح کا اندوہناک سانحہ رونما ہونا ملک میں خوف اور دہشت کی فضا قائم کرنے کی سازش ہے۔ دہشت گردوں نے بے گناہ انسانوں کے خون سے ہولی کھیلی ہے اور قومی وحدت کو پارہ پارہ کیا ہے جو کہ اسلامی تعلیمات کے بھی منافی ہے۔ پاکستان کی قوم دہشت گردی کے ہر عمل کے خلاف متحد اور پرعزم ہیں اور یہ دہشت گردی ایک سنگین ناقابل معافی جرم ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس دہشت گردی ملوث اور اس کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لائے۔ عبادت گاہوں کے تقدس اور تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری ہے حکومت ہر ایک کی عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور قوم کو فرقہ واریت کی آگ سے بچانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ حکومت مذہبی رواداری کے فروغ کے لیے علماء کرام کے ساتھ مل کر اقدامات کرے اور ملک دشمن قوتوں کی ہر سازش کو ناکام بنا دیا جائے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اس سانحہ پر بسنت کے حوالے سے تمام پروگرام منسوخ کردیے گئے جو کہ خوش آئند بات ہے۔ ایسے موقع پرجب ملک وقوم غم میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ 34 سے زائد گھرانوں میں صفت ماتم بچھا ہوا ہے ایسے ماحول میں گل غپاڑہ، ناچ گانے، بھنگڑوں کا انعقادکسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جاسکتا تھا اور یہ واہیات شہداء کے لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان میں اسلام ا باد پاکستان کے کے خلاف ہے اور کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.