دہشت گردی کا تحفہ مغرب سے ملا، وزیر قانون
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا تحفہ مغرب سے ملا، ان کی جنگوں میں شامل ہونے کی قیمت چکا رہے ہیں۔
عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ رہا، چالیس سال سے ہم قربانیاں دے رہے ہیں، کوئی ملک اتنا لمبا عرصہ دہشت گردی کے خلاف نہیں لڑا۔
وفاقی وزیر قانون نے مسنگ پرسنز کے معاملے پر ایک اور کمیٹی بنانے کا بھی اعلان کیا، اور کہا کہ کئی دفعہ دیکھا گیا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث لوگ مسنگ پرسنز کی فہرست میں شامل ہوجاتے ہیں، نئی کمیٹی ان معاملات کو دیکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں شہریوں کو سزا کے خلاف جلد اپیل کا حق مل جائے گا۔
اعظم نذیر تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے کچھ فیصلے کیے ہیں جو جلد پارلیمنٹ کے سامنے لائے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔