اسلام آباد حملے کا ماسٹر مائنڈ افغان شہری، چار افراد حراست میں: وزیر داخلہ محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد کی مسجد میں حالیہ دھماکے کا ماسٹر مائنڈ داعش سے وابستہ ایک افغان شہری ہے، جس کے ساتھ کل چار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران محسن نقوی نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کی انسداد دہشت گردی پولیس (سی ٹی ڈی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جمعے کی رات آپریشن کر کے ماسٹر مائنڈ اور اس کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا۔ اس کارروائی کے دوران ایک پولیس اے ایس آئی ہلاک اور تین اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
وزیر داخلہ کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی اور حملہ آور کی تربیت افغانستان میں ہوئی، دو افراد نے ریکی کی اور حملہ آور کو افغانستان سے پاکستان لایا گیا۔
محسن نقوی نے بتایا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی بیشتر کارروائیاں افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں جیسے ٹی ٹی پی اور داعش سے مربوط ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کمیونٹی انٹیلی جنس میں تعاون کریں تاکہ دہشت گردوں کی کارروائیوں کو روکنے میں مدد ملے۔
وزیر داخلہ نے دہشت گردوں کی جدید اسلحہ استعمال کرنے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ان سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی کو اپڈیٹ کرنا ہوگا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی فنڈنگ اور منصوبہ بندی بھارت سے ہو رہی ہے، اور اہداف فراہم کرنے کے لیے مالی امداد بھی بڑھائی گئی ہے۔
یاد رہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے، جبکہ بھارت نے اسلام آباد دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اندرونی سماجی مسائل کو حل کیے بغیر دوسرے ممالک پر الزام تراشی کرنا درست نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسلام ا باد وزیر داخلہ کہ پاکستان محسن نقوی
پڑھیں:
جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔
سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش
فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار
ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیےاس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔
مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا
اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔
گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیںجاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔
جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی
سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا
اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔
’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر