چین، امریکا، ترکیہ، افغانستان سمیت متعدد ممالک کی اسلام آباد حملے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) چین، امریکا، برطانیہ، روس، افغانستان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، ترکیہ، آسٹریلیا اور جرمنی سمیت دنیا کی کئی ممالک نے اسلام آباد حملے کی مذمت کی ہے۔
چین کے سفارتخانے کی جانب سے اسلام آباد دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستانی بہن بھائیوں کے ساتھ ہیں، متاثرین کے دکھ میں شریک ہیں۔
افغان وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا ہے کہ مسجد پر حملے کے نتیجے میں نمازیوں کی شہادت، زخمی ہونےپرگہرےدکھ کا اظہارکرتے ہیں۔
افغان وزارتِ خارجہ نے کہا کہ مساجد اور مقدس مذہبی شعائرکونشانہ بنانا اسلامی اور انسانی اقدارکےمنافی ہے، عبادت گزاروں اورعام شہریوں کونشانہ بنانے والےحملےناقابلِ قبول اورقابلِ مذمت ہیں۔
کینیڈا کے ہائی کمشنر نے اسلام آباد خودکش حملے کو انسانیت پر حملہ قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔
متحدہ عرب امارات نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یو اے ای ان مجرمانہ کارروائیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور ہر قسم کے تشدد، انتہاپسندی اور دہشت گردی کو مسترد کرنے کے اپنے مستقل مؤقف کی توثیق کرتا ہے جو امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے کی جاتی ہیں۔
امریکی سفارت خانے نے جاری پیغام میں کہا کہ امریکا آج اسلام آباد میں ہوئے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں بے گناہ نمازی جاں بحق اور زخمی ہوئے، امریکا اس واقعے سمیت ہر قسم کی دہشت گردی اور تشدد کی مذمت کرتا ہے۔
امریکی سفارت خانے کی چارج ڈی افیئر نیٹلی بیکر نے کہا کہ امریکا کی جانب سے میں اس حملے میں زخمی اور جاں بحق افراد کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتی ہوں، شہریوں اور عبادت گاہوں کے خلاف دہشت گردی اور انہیں نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔
ترجمان ترک وزارت خارجہ نے کہا کہ راولپنڈی میں آج نمازِ جمعہ کے دوران مسجد میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، ہم اس گھناؤنے حملے میں جان بحق ہونے والوں کیلئے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے طلب گار ہیں۔
برادر مسلم ملک سعودی عرب نے بھی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گزاروں کو نشانہ بنانا، بے گناہ شہریوں کا خون بہانا کھلی دہشت گردی ہے، شہدا کے اہلخانہ، حکومتِ پاکستان اور عوام سے دلی تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اسلام آباد میں دہشتگرد حملے کو شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران ہر قسم کی دہشتگردی اور پرتشدد انتہا پسندی کی بلاامتیاز مخالفت کرتا ہے، ایران نے شہدا کے لواحقین، پاکستانی عوام اور حکومت سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی اپیل بھی کی۔
برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا کہ اسلام آباد میں ہولناک حملہ انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، ہمارے خیالات تمام متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں، برطانیہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی مسجد میں عبادت گزاروں پر ہونے والے حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اپنے بیان میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اس امر کا اعادہ کیا کہ شہریوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے والے حملے ناقابلِ قبول ہیں، انہوں نے زور دیا کہ اس حملے کے ذمہ داروں کی نشاندہی کی جائے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
انڈین وزارت خارجہ نے بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد کی ایک مسجد میں ہونے والا بم دھماکہ قابلِ مذمت ہے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر انڈیا تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔
آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام اور حکومت سے اسلام آباد میں ایک مسجد پر ہونے والے المناک دہشت گرد حملے کے بعد دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، جس میں قیمتی جانیں گئیں اور کئی افراد زخمی ہوئے۔
پاکستان میں یورپی یونین کے مشن کا بھی ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ہمیں آج اسلام آباد میں ہونے والے گھناؤنے خودکش حملے کی خبر سن کر گہرے صدمے کا سامنا کرنا پڑا، یورپی یونین دہشت گردی اور پرتشدد انتہاپسندی کی تمام اقسام کی سخت مذمت کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مذمت کرتے ہوئے کہا الفاظ میں مذمت اسلام آباد میں اسلام ا باد ہونے والے دلی تعزیت نے کہا کہ کہا ہے کہ گردی اور کا اظہار میں ہونے کرتے ہیں حملے کی میں کہا کی مذمت کرتا ہے
پڑھیں:
بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین کی جمعیت الوفاق الوطني الاسلامی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے ایک ایسے اقدام کے ذریعے، جسے اس جماعت نے خطرناک اور جبری قرار دیا ہے، جعفری اوقاف ادارے کو تحلیل کرکے اسے ایک ایسے کونسل میں ضم کر دیا ہے جو سیاسی اقتدار کے زیرِ اثر کام کرتی ہے۔ جمعیت الوفاق کے مطابق یہ اقدام شرعی احکام میں مداخلت، آئین کی خلاف ورزی اور ملک میں مذہبی آزادیوں سے متعلق رائج اصولوں اور روایات پر حملہ ہے۔ الوفاق نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ کئی صدیوں کے دوران بحرین یا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس نوعیت کی مداخلت کی مثال نہیں ملتی۔ جماعت کے مطابق حکومت نے علاقائی حالات، کشیدگیوں اور جنگی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعفری مکتبِ فکر کی مذہبی شخصیات، اداروں اور اوقافی املاک پر قبضے اور مداخلت کی راہ اختیار کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ جمعیت الوفاق نے مزید کہا کہ یہ اقدامات شرعی ضوابط کی کھلی اور ناقابلِ قبول خلاف ورزی ہیں، اور انہیں ایسے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے جن کا مقصد شہریوں کو احتجاج اور مخالفت سے روکنا ہے۔ جمعیت کے مطابق حکومت نے ان غیر قانونی اقدامات کے لیے پہلے ہی ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جو غیر اعلانیہ ہنگامی حالت سے مشابہ تھا اور جس میں سکیورٹی دباؤ کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا گیا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ سلسلہ سید محمد الموسوی کی مبینہ طور پر دورانِ حراست شہادت اور ان کے جسدِ خاکی کی حوالگی سے شروع ہوا، جس پر تشدد کے آثار نمایاں تھے۔ اس کے بعد بعض خاندانوں کی شہریت منسوخ کرنے، انہیں جبری ہجرت پر مجبور کرنے، مختلف علاقوں سے درجنوں علماء کی گرفتاری اور ان کی تصاویر کی تشہیر جیسے اقدامات سامنے آئے، جنہیں جمعیت نے انتقامی کارروائیاں قرار دیا۔ اسی طرح متعدد مساجد کو ائمہ جماعت سے محروم کرنے، دینی مدارس، حوزاتِ علمیہ اور مذہبی منبروں کی سرگرمیوں کو محدود یا معطل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔
جمعیت الوفاق کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ پالیسی دراصل ملک کی دینی اور سماجی ساخت پر حملے، اداروں کی بندش، املاک کی ضبطی اور ان کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرکے ایک "سکیورٹی اور جابرانہ نظم" نافذ کرنے کی تمہید ہے، جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم ہے اور شرعی، سماجی، قانونی و انسانی اصولوں کی کوئی پاسداری نہیں کرتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فرمان نمبر (31) برائے سال 2026 ایک سیاسی نوعیت کا جبری فیصلہ ہے جو عوامی رضامندی کے بغیر مسلط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف بحرین کے ایک تاریخی اور اصیل ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ ایک ایسا زبردستی کا تغیر نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو صدیوں پر محیط بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
جمعیت کے مطابق تاریخ اس اقدام کو بحرینی حکومت کی سب سے بڑی غلطیوں میں شمار کرے گی، کیونکہ یہ فطرت، دین، آزادی اور قانون کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ الوفاق نے زور دیا کہ یہ جبری فرمان ہزاروں اوقاف کی خیانت اور غصب کے مترادف ہے، جو مخصوص شرعی عناوین اور شرائط کے تحت وقف کیے گئے تھے اور جن میں سیاسی مداخلت یا ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وقف کا شرعی اور قانونی تشخص کسی حکومتی حکم یا فرمان سے تبدیل نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس سلسلے میں کیے گئے تمام اقدامات باطل اور شرعی و قانونی جواز سے محروم ہیں۔
جمعیت الوفاق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فرمان کو فوری طور پر واپس لے اور آمریت، ہٹ دھرمی اور ایسے منصوبے پر اصرار ترک کرے جو صرف طاقت، خوف اور شرعی احکام کی مخالفت کے سہارے ہی جاری رکھا جا سکتا ہے۔ جمعیت کا مزید کہنا تھا کہ شیعہ اور سنی اوقاف کو ایسے انتظامی ڈھانچے کے تحت لانے کی کوشش، جسے مذہبی حلقے قبول نہیں کرتے، اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے سیاسی نظام کو ازسرِ نو متعین کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ نظام شراکت داری، جوازِ حکمرانی اور قومی ہم آہنگی کی بنیادی خصوصیات سے محروم ہو چکا ہے۔ بیان کے اختتام پر جمعیت الوفاق نے ایک "نئے سماجی معاہدے" کی تشکیل کا مطالبہ کیا، جو عوامی اور قانونی بنیادوں پر استوار ہو، تمام شہریوں اور سماجی طبقات کے حقوق کی ضمانت دے اور ان کے مستقبل، شناخت اور آزادیوں کے حوالے سے اعتماد اور اطمینان کو مضبوط بنائے۔