ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ ‘فہیم اشرف نے پاکستان کونیدر لینڈز کیخلاف فتح دلوا دی
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
لاہور+اسلام آباد ( (سپورٹس رپورٹر+اپنے سٹاف رپورٹر سے )) ٹی 20 ورلڈکپ کے افتتاحی میچ میں فہیم اشرف کی دھواں دھار اننگز کے باعث پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دیدی۔ نیدر لینڈز نے پاکستان کو جیت کیلئے 148 زنز کا ہدف دیا جو پاکستانی ٹیم نے 19.3 اوورز میں تین وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا۔ کولمبو میںکھیلے گئے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں نیدر لینڈز کے خلاف ٹاس جیت کر پاکستان ٹیم نے بائولنگ کرانے کا فیصلہ کیا، میچ کے آغاز کے بعد نیدرلینڈز کی پہلی وکٹ 28 رنز پر گری۔ میکس او دائود 5 رنز بنا کر سلمان مرزا کا شکار بنے ۔ دوسری وکٹ 31 رنز پر گری جب محمد نواز نے مائیکل لیوٹ کو 24 رنز پر آؤٹ کیا۔ تیسری وکٹ 65 رنز پر گری جب ابرار احمد نے کولن اکرمین کو 20 رنز پر آؤٹ کیا۔ نیدرلینڈز کے بیٹرز نے پارٹنر شپ قائم کی اور ٹیم کا سکور 105 تک پہنچایا تاہم محمد نواز نے پارٹنر شپ کو بریک لگوا دیا اور قومی ٹیم نے چوتھی وکٹ حاصل کر نے میں کامیاب ہوئے۔ نیدرلینڈز کے چھٹے اور ساتویں کھلاڑی کو صائم ایوب نے آؤٹ کیا۔ وین ڈر مرفی نیدر لینڈز کے آٹھویں آؤٹ ہونے والے کھلاڑی تھے جنہیں شاہین آفریدی نے سلمان آغا کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرایا۔ آخری اوور میں سلمان مرزا نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور پوری ڈچ ٹیم 147 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ ایک موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ نیدر لینڈز کی ٹیم 160 کے 170 کے درمیان سکور کر لے گی تاہم پاکستانی بائولرز نے شاندار کم بیک کیا اور آخری 6 وکٹیں صرف 20 رنز کے عوض حاصل کیں۔ سلمان مرزا نے 3 جبکہ صائم ایوب، ابرار احمد اور محمد نواز نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں، ایک وکٹ شاہین آفریدی کے حصے میں آئی۔ شاداب خان 4 اوورز میں 26 رن دے کر کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے۔ ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی جانب سے صاحبزادہ فرحان اور صائم ایوب نے اننگز کا آغاز کیا لیکن 27 رنز پر صائم ایوب 13 گیندوں پر 24 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ کپتان سلمان علی آغا 53 کے مجموعے پر 12 رنز بنا کر آریان دت کا شکار بنے ۔ صاحبزادہ فرحان 46 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ عثمان خان صفر پر بولڈ ہوگئے، دونوں کو پال وین میکرین نے ایک ہی اوور میں آؤٹ کیا، اگلے ہی اوور میں وین ڈر مرفی نے بابر اعظم کو کیچ آؤٹ کر لیا۔ محمد نواز 13 گیندوں پر 6 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، شاداب خان 12 گیندوں پر 8 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ سات وکٹیں گرنے کے بعد فہیم اشرف نے 11 گیندوں پر 3 چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے 29 رنز کی اننگز کھیلی اور ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرایا۔ صاحبزادہ فرحان 47 رنز کیساتھ نمایاں رہے۔ آریان دت اور پال وین میکران نے 2، 2 جبکہ وینڈر مروا، لوگن وین بیک اور کائل کلین نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ فہیم اشرف کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں پاکستان کی نیدرلینڈز کیخلاف جیت پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے پاکستانی ٹیم کی شاندار کارکردگی کو سراہا ہے اور کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ٹیم نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے شائقین کے دل جیت لئے ،قومی ٹیم کیلئے ورلڈ کپ کا کامیاب آغاز ہے،امید ہے مستقبل میں بھی جیت کا یہ سلسلہ برقرار رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نیدر لینڈز صائم ایوب فہیم اشرف گیندوں پر محمد نواز ا و ٹ کیا لینڈز کے لینڈز کی ورلڈ کپ ٹیم نے
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔