پاک سعودی دفاعی معاہدہ شدت پسندانہ کارروائیوں کے تناظر میں علاقائی سلامتی کے لیے اہم ہے، عاصم افتخار احمد
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی اسٹریٹجک شراکت داری کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ دفاعی تعاون کا معاہدہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور خطے میں بڑھتی ہوئی شدت پسندانہ کارروائیوں کے تناظر میں علاقائی سلامتی کے لیے نہایت مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
نیویارک میں ایک انٹرویو میں عاصم افتخار احمد نے کہا کہ یہ معاہدہ نہایت اہم ہے، تاہم اسے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دہائیوں پر محیط تعاون اور مضبوط اسٹریٹجک اتحاد کے تسلسل اور مضبوطی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ یہ شراکت داری ‘برادرانہ تعلقات اور علاقائی و عالمی امور پر ہم آہنگی’ پر مبنی ہے، جسے اب عملی اور ٹھوس شکل دے دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: افغان سرزمین سے دہشتگردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ، عاصم افتخار
پاکستان اور سعودی عرب نے گزشتہ سال 17 ستمبر کو اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے سے مشترکہ دفاعی صلاحیت میں اضافہ اور عسکری و سیکیورٹی تعاون کو باضابطہ شکل دی گئی۔ یہ معاہدہ وزیر اعظم شہباز شریف کے دورۂ ریاض کے دوران طے پایا، جہاں انہوں نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔
عاصم افتخار احمد نے بتایا کہ دفاعی معاہدے کے بعد اقتصادی تعاون کے فریم ورک کو بھی حتمی شکل دی گئی، جو جامع شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب پاکستان کا ایک اہم اقتصادی شراکت دار ہے اور سرمایہ کاری، تجارت اور ترقیاتی تعاون میں وسعت آ رہی ہے۔
شدت پسندی کے خلاف مؤقفپاکستان کو درپیش حالیہ دہشت گردی کی لہر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ واقعات پاکستان کے امن، استحکام اور معاشی بحالی کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں، تاہم پاکستان ان خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو 2 بڑے گروہ قرار دیا جو دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اگست 2021 میں کابل میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سیکیورٹی ماحول میں تبدیلی آئی اور بعض گروہوں کو دوبارہ منظم ہونے اور سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس معاملے کو دوطرفہ سطح پر اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت مختلف فورمز پر اٹھایا ہے، جہاں اقوام متحدہ کی رپورٹس میں افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اقدام عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے متعدد دہشت گرد عناصر کو پہلے ہی غیر مؤثر بنایا ہے اور ان گروہوں کے سہولت کاروں سے بھی آگاہ ہے، افغانستان میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد چھوڑے گئے جدید اسلحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اربوں ڈالر مالیت کا عسکری سازوسامان مختلف گروہوں کے ہاتھ لگا، جس کے اثرات خطے میں دیکھے جا رہے ہیں۔
معاشی بحالی اور عالمی کردارعاصم افتخار احمد کے مطابق حالیہ برسوں میں کیے گئے معاشی اصلاحاتی اقدامات، جن میں آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں، کے باعث پاکستان کے معاشی اشاریے بہتر سمت میں جا رہے ہیں اور سرمایہ کاری کا ماحول بہتر بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین سی پیک کے ذریعے گہری شمولیت رکھتا ہے، سعودی عرب بڑی سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ اور امریکا کے ساتھ بھی اقتصادی تعلقات میں توسیع ہو رہی ہے۔
غزہ اور عالمی امورغزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اسلامی تعاون تنظیم اور عرب ممالک کے ساتھ مل کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کی حمایت کی اور اس کے نفاذ کے لیے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کی منظوری میں کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران نے پاک سعودی دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش ظاہر کردی
عاصم افتخار نے زور دیا کہ مستقل جنگ بندی، تعمیر نو اور بالآخر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب پیش رفت ہی اصل ہدف ہے۔ اقوام متحدہ کا کوئی متبادل موجود نہیں اور بیشتر رکن ممالک کثیرالجہتی نظام پر اعتماد رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ادارے کو مزید مؤثر اور جواب دہ بنانے کے لیے اصلاحات ضروری ہیں، تاہم مالی مشکلات کی بڑی وجہ رکن ممالک کی جانب سے واجبات کی عدم ادائیگی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ پاک سعودی دفاعی معاہدہ عاصم افتخار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ پاک سعودی دفاعی معاہدہ عاصم افتخار عاصم افتخار احمد نے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ پاکستان کے کے لیے
پڑھیں:
علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
اسلام ٹائمز: موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔ تحریر: عبداللہ البحرانی
مملکتِ بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کے اقدامات میں نمایاں شدت آ گئی ہے، جو وسیع پیمانے پر گرفتاریوں، شہریت کی منسوخی اور مذہبی شعائر پر پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ مرآۃ البحرین کے حوالے سے عبداللہ البحرانی نے لکھا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے حساس علاقائی ماحول میں رونما ہو رہی ہے جہاں داخلی سلامتی کے خدشات بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد۔ اس رپورٹ کا مقصد سرکاری بیانات، انسانی حقوق کے اداروں کے ردِعمل اور سرکاری مؤقف کے تقابلی جائزے کے ذریعے اس مہم کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا تجزیہ کرنا ہے۔
تاریخی اور سیاسی پس منظر:
انہوں نے لکھا کہ بحرین میں حکومت اور شیعہ اکثریتی آبادی، جو ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے، ان کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس کشیدگی کی جڑیں سیاسی نمائندگی، اصلاحات کے مطالبات اور امتیازی سلوک کے الزامات میں پیوست ہیں۔ یہ تناؤ خاص طور پر 2011ء کے عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد بڑھ گیا، جب احتجاجی تحریک کو سخت سکیورٹی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور شیعہ کارکنان اور علمائے دین کو نمایاں طور پر نشانہ بنایا گیا۔
حالیہ پیش رفت، مئی 2026 کی مہم:
البحرانی کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والے بحرینی شہریوں کے ایک گروہ سے متعلق کارروائی کی گئی ہے اور 41 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد پر جارحیت کا جواب دینے کے حوالے سے ایران کے مؤقف سے ہمدردی کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ اعلان بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے اپریل 2026 کے اواخر میں دیے گئے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بحرینی شہریت کوئی ایسا کاغذ نہیں جو محض عطا کر دیا جائے، بلکہ یہ ایک عہد و پیمان ہے، اور جو اس عہد کو توڑے گا وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے حق کو ساقط کر دے گا۔ اس بیان کو شہریت کی منسوخی کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔ بعد ازاں مئی 2026 کے آغاز میں حکومت نے 69 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے جاری کیے، جن میں بعض کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔ اسی طرح پانچ افراد کو عمر قید اور مزید 24 افراد کو پانچ سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان تمام افراد پر ایران کے ردِعمل کی حمایت یا تائید سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔
مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق پر پابندیاں:
البحرانی کے مطابق یہ مہم صرف سکیورٹی پہلو تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ تنظیم Americans for Democracy & Human Rights in Bahrain (ADHRB) نے مارچ 2026 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران بحرین میں شیعہ مذہبی رسومات پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔ تنظیم نے کعبہ کے ماڈل اور دیگر مذہبی علامات کو ہٹانے، نیز المعامیر گاؤں میں مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی طلبی اور گرفتاریوں کی نشاندہی کی۔ انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ 2011ء سے شیعہ اکثریتی آبادی کے حقوق پر جاری دباؤ کا تسلسل ہیں، جن میں مساجد کی بندش، نمازِ جمعہ پر پابندیاں اور مذہبی مناسبات کے انعقاد میں رکاوٹیں شامل ہیں۔
سیاسی اور قانونی پہلو:
البحرانی کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔
علاقائی حالات سے فائدہ اٹھانے کی عوام دشمن پالیسی:
البحرانی نے مزید لکھا کہ یہ داخلی مہم خطے میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل ایک جانب اور ایران دوسری جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، جو فروری 2026 میں مسلح تصادم تک جا پہنچی۔ ان کے مطابق بحرینی حکومت اس ماحول کو داخلی سکیورٹی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ایران کے حامی سمجھے جانے والے کسی بھی عوامی یا مذہبی رجحان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک نئی علاقائی سکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کی بنیاد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی، ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی مخالفت اور اس مؤقف سے اختلاف رکھنے والی عوامی یا مذہبی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے پر رکھی گئی ہے۔
چند تجاویز:
البحرانی کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے یا بیرونی فریقوں سے تعلقات کے نام پر بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں، خصوصاً مذہبی آزادی، آزادیِ عقیدہ اور حقِ شہریت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مذہبی شناخت کو سکیورٹی خطرے سے جوڑنے کا عمل خوف اور عدم استحکام کی فضا پیدا کرتا ہے اور بحرینی معاشرے کے سماجی تانے بانے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ البحرانی نے سفارشات پیش کی ہیں کہ من مانی گرفتاریوں اور شہریت کی منسوخی کا فوری خاتمہ کیا جائے، جن شہریوں کی شہریت منسوخ کی گئی ہے، انہیں ان کا حق واپس دیا جائے، مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کا مکمل احترام کیا جائے، شیعہ مذہبی شعائر اور رسومات پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، بحرین اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پابندی کرے، معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت سے ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ کشیدگی کے اسباب کا جائزہ لے کر قومی مفاہمت کی راہ ہموار کی جا سکے، مضمون کے اختتام پر البحرانی نے زور دیا کہ پائیدار استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے جامع اور بامعنی قومی مذاکرات ناگزیر ہیں۔