’’یہ جو دہشت گردی واپس آئی ہے، اس کے پیچھے پی ٹی آئی ہے‘‘ وفاقی وزیر اطلاعات
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
لاہور:
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ملک میں جو دہشت گردی واپس آئی ہے، اس کے پیچھے پی ٹی آئی ہے۔
علما کے ساتھ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ میں اظہار یکجہتی کے لیے حاضر ہوا ہوں، جو لوگ اسلام آباد میں افسوس ناک واقعے کے ذمہ دار ہیں، انہیں انسان کہنا انسانیت کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ جو اللہ کی عبادت میں مصروف تھے انہیں نشانہ بنایا گیا کیوں کہ ان دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہے ۔ میں پوری ریاست کی طرف سے یقین دلاتا ہوں کہ تمام مساجد، امام بارگاہوں اور دینی مراکز کی سیکیورٹی کے کیے پوری کوشش کر رہے ہیں ۔ ہم ان دہشت گردوں کا جڑ سے خاتمہ کریں گے۔
عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ مضافات میں واقعہ ہونا افسوس ناک ہے لیکن یہ سیکیورٹی فیلیئر نہیں ہے۔ ہمیں متحد ہوکر اس سوچ کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سیکیورٹی فورسز کے پاس تمام تر مہارت موجود ہے، جس سے وہ مقابلہ کررہی ہیں اور کرتی رہیں گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ میں یہاں سیاسی بات کرنا نہیں چاہتا تھا مگر آپ کو یاد ہوگا کہ ایک آپریشن رد الفساد اور ضرب عضب بھی ہوا تھا ، آپ کو یاد ہوگا کہ خودکش حملے ختم ہو گئے تھے، کراچی کا امن بھی بحال ہوگیا تھا۔ پھر ایک حکومت آئی، جب کسی نے یہ کہا تھا کہ یہ پرامن لوگ ہیں، ہمارے بھائی ہیں، ہمیں ان سے بات چیت کرنی چاہیے اور انہیں سیٹلڈ ایریاز میں لاکر بسایا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسی سوچ نے، جو طالبان خان کی سوچ تھی، اسی سوچ کا آج خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ ہم نے تو دہشت گردی کا خاتمہ کردیا تھا۔ اب یہ جو دہشت گردی واپس آئی ہے، اس کے پیچھے پی ٹی آئی ہے۔
عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ہارڈ ٹارگٹ تک پہنچنے کی صلاحیت دہشتگردوں میں ختم ہو چکی ہے۔ اسی لیے وہ دور دراز یا مضافاتی علاقوں میں سافٹ ٹارگٹ تلاش کرتے ہیں اور ان کو نشانہ بناتے ہیں۔ ہمارے سیکیورٹی ادارے مکمل الرٹ ہیں ۔ ہم مزید سخت اقدامات بھی کر رہے ہیں۔ دہشتگردوں کا پیچھا کریں گے، ان کو چھوڑیں گے نہیں ۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد واقعے کے حوالے سے کافی پیشرفت ہوئی ہے۔ سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ پیغام امن کمیٹی کا مقصد ملک میں ہم آہنگی کا فروغ اور دہشت گردانہ نظریات کا خاتمہ ہے۔ اس کمیٹی میں تمام مکاتب فکر سے نمائندگی موجود ہے۔ ملک میں فرقہ واریت اور نفرت کی کوئی گنجائش نہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ دہشت گرد چند کوڑیوں کی خاطر مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں۔ ان کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ وزیراعظم نے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے وزیر داخلہ کو مکمل ہدایت دی ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ انہوں نے رہے ہیں آئی ہے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔