ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہوں گے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عمان میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے بعد آئندہ ہفتے ایک اور دور کی بات کی ہے۔

عراقچی نے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں واضح کیا کہ ایران کا میزائل پروگرام ‘کبھی قابلِ مذاکرات نہیں’ رہا اور اگر امریکا نے ایرانی سرزمین پر حملہ کیا تو مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسقط میں ہونے والے مذاکرات بالواسطہ تھے، تاہم امریکی وفد سے مصافحے کا موقع ملا، جو ایک اچھا آغاز ہے، لیکن اعتماد کی بحالی کے لیے ابھی طویل سفر باقی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ایران امریکا کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی پروازیں متاثر، عالمی ایئرلائنز الرٹ

دوسری جانب تہران میں بعض شہری مذاکرات کے حوالے سے پُرامید نظر نہیں آئے اور ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریق اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ کویت یونیورسٹی کے ماہر عبداللہ الشیجی کے مطابق امریکا سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے اور اسرائیل بھی ایران پر دباؤ بڑھانے کا خواہاں ہے۔

ٹرمپ نے مذاکرات کو مثبت قرار دینے کے باوجود ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔ امریکا نے ایرانی تیل کی برآمدات محدود کرنے کے لیے نئی پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا کو دوٹوک جواب، ایران نے یورینیم کے ذخائر بیرون ملک بھیجنے سے انکار کر دیا

عراقچی نے کہا کہ یورینیم افزودگی ایران کا ‘ناقابلِ تنسیخ حق’ ہے اور اسے جاری رہنا چاہیے، تاہم ایران یقین دہانی پر مبنی معاہدے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی جوہری معاملہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو آئندہ ہفتے واشنگٹن میں ٹرمپ سے ملاقات کریں گے، جہاں ایران سے متعلق امور زیر بحث آئیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران عباس عراقچی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا ایران عباس عراقچی کے لیے

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران