فلسطین ہمارے خطے کی اسٹریٹجک اور اخلاقی سمت متعین کرتا ہے، ایرانی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ فلسطین ہمارے خطے کی اسٹریٹجک اور اخلاقی سمت کا تعین کرتا ہے، اور یہ مغربی ایشیا کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر انصاف کا ایک بنیادی معاملہ ہے۔
ہفتے کو دوحہ میں ایک فورم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ بین الاقوامی قانون کی اہمیت، عالمی انسانی حقوق کی حقیقی قدر اور عالمی اداروں کے کمزوروں کے تحفظ یا طاقتوروں کے مفادات کی حمایت کے لیے موجودگی کا امتحان ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ماضی میں فلسطینی بحران کو غیر قانونی قبضے اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا، لیکن اب یہ بحران اس سے کہیں زیادہ سنگین اور پیچیدہ ہو چکا ہے۔
عباس عراقچی کے مطابق غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض ایک جنگ یا دو فریقین کے درمیان تنازع نہیں بلکہ شہری آبادی کی جان بوجھ کر وسیع پیمانے پر تباہی ہے، جسے انہوں نے نسل کشی قرار دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔