فیصل ممتاز راٹھور کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ اوورسیز کنونشن کا مقصد بیرون ملک مقیم کشمیریوں کو ریاستی ترقیاتی عمل میں شامل کرنا، ان کے مسائل سننا اور انہیں سرمایہ کاری کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مظفرآباد میں منعقد ہونے والے اوورسیز کنونشن کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری خوشحال خان، سیکرٹری اطلاعات و انفارمیشن ٹیکنالوجی محمد راشد حنیف، سیکرٹری حکومت عدنان خورشید، چیئرمین اوورسیز فاؤنڈیشن کے مشیر اعجاز رضا کے علاوہ عابد حسین، مجاہد حسین، لیاقت علی، شعیب محمود، زعفران خان، عبدالغفار، بیرسٹر عمر علی اور وقاص احمد نے شرکت کی۔ چیف سیکرٹری نے وزیراعظ٘م کو اوورسیز کنونشن سے متعلق اب تک کی گئی تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی جبکہ اجلاس کے شرکاء نے کنونشن کو مؤثر اور بامقصد بنانے کے لیے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ اوورسیز کشمیری آزاد جموں و کشمیر کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ریاست کی تعمیر و ترقی میں ان کا کردار نہایت اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اوورسیز کنونشن کا مقصد بیرون ملک مقیم کشمیریوں کو ریاستی ترقیاتی عمل میں شامل کرنا، ان کے مسائل سننا اور انہیں سرمایہ کاری کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کنونشن کے تمام انتظامات بروقت، مربوط اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں تاکہ مہمانوں کو خوشگوار اور یادگار تجربہ فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آزاد کشمیر اوورسیز کشمیریوں کے مسائل کے حل اور ان کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے متعلقہ محکموں کو باہمی رابطہ مزید مؤثر بنانے اور کنونشن کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کی ہدایات جاری کیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اوورسیز کنونشن نے کہا کہ
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔