غزہ بورڈ آف پیس کی پہلی میٹنگ رواں ماہ ہوگی، اراکین کو دعوت نامے ارسال
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
غزہ بورڈ آف پیس کی پہلی میٹنگ رواں ماہ ہوگی، اراکین کو دعوت نامے ارسال WhatsAppFacebookTwitter 0 8 February, 2026 سب نیوز
واشنگٹن: (آئی پی ایس) غزہ بورڈ آف پیس کی پہلی میٹنگ 19 فروری کو واشنگٹن میں منعقد کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن میں شیڈول میٹنگ کیلئے ارکان کو دعوت نامے ارسال کر دیے گئے ہیں، میٹنگ کی میزبانی امریکی صدر ٹرمپ، بورڈ ممبران اور غزہ ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کریں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ بورڈ آف پیس کے چیئرمین ہیں۔
برطانیہ، فرانس اور ناروے سمیت اہم یورپی ممالک نے پیس بورڈ کو اقوام متحدہ کی حیثیت چیلنج کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اس میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے، بورڈ آف پیس کا مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا اور غزہ کی تعمیر نو ہے۔
میٹنگ کا ایجنڈا ابھی سامنے نہیں لایا گیا تاہم امریکی میڈیا کے مطابق غزہ بورڈ کا قیام صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش غزہ ڈیل کے دوسرے حصے پر عمل قرار دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان سمیت 25 ممالک نے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کر رکھی ہے، جبکہ ابتدا میں تنقید کرنے والے اسرائیلی وزیراعظم نے بھی بورڈ آف پیس کا حصہ بننے پر آمادگی ظاہر کردی تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراپوزیشن رہنماؤں کا آج ملک بھر میں یومِ سیاہ اور یومِ سوگ منانے کا اعلان اپوزیشن رہنماؤں کا آج ملک بھر میں یومِ سیاہ اور یومِ سوگ منانے کا اعلان قومی اسمبلی اجلاس میں حاضری انتہائی کم، فافن کی رپورٹ جاری مجھے نہیں لگتا شہبازشریف 2027 تک وزیراعظم رہیں گے: مفتاح اسماعیل اسلام آباد حملے کی ساری پلاننگ افغانستان میں ہوئی، واقعے سے منسلک تمام افرادکو پکڑلیا ہے: محسن نقوی محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو 8 فروری کے احتجاج میں شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل وزارت خارجہ میں اعلی سطح پر تبدیلیاں،ترجمان سمیت متعدد سفراء تبدیلCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: غزہ بورڈ ا ف پیس
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔