مردوں میں دل کی بیماری خواتین سے سات سال پہلے ظاہر ہوتی ہے: تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
نئی دہلی (ویب ڈیسک) ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مردوں میں دل کی بیماری خواتین کے مقابلے میں اوسطاً سات سال پہلے ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
بھارتی ٹی وی کے مطابق دل اور خون کی نالیوں سے متعلق امراض دنیا بھر میں اموات کی ایک بڑی وجہ بن چکے ہیں، عالمی ادارۂ صحت کے مطابق سال 2022 میں دنیا بھر میں تقریباً ایک کروڑ 98 لاکھ افراد ان بیماریوں کے باعث جان سے گئے، جن میں سے 85 فیصد اموات دل کے دورے اور فالج کی وجہ سے ہوئیں۔
یہ تحقیق کارڈیا (کورونری آرٹری رسک ڈیولپمنٹ اِن ینگ ایڈلٹس) نامی طویل المدتی ریسرچ کے ڈیٹا پر مبنی ہے اور اس کے نتائج جرنل آف امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع کیے گئے ہیں، تحقیق کے مطابق مرد 50.
ریسرچ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کورونری ہارٹ ڈیزیز دل کی بیماری کی سب سے عام قسم ہے اور مردوں میں یہ مسئلہ خواتین کے مقابلے میں تقریباً 10 سال پہلے ظاہر ہو جاتا ہے، تاہم فالج اور ہارٹ فیل ہونے کے معاملات میں مرد و خواتین دونوں میں خطرات تقریباً ایک ہی عمر میں سامنے آتے ہیں۔
محققین کے مطابق مرد و خواتین کے درمیان دل کی بیماری کے خطرے میں فرق 35 سال کی عمر سے ہی نمایاں ہونا شروع ہو جاتا ہے اور درمیانی عمر تک برقرار رہتا ہے۔
تحقیق کے لیے 18 سے 30 سال کی عمر کے پانچ ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا، جن کا 30 سال تک مشاہدہ کیا گیا، کم عمر افراد پر مشتمل اس گروپ نے ابتدائی عمر میں دل کی بیماری کے اسباب کو سمجھنے میں مدد دی۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ دل کی بیماری سے بچاؤ کے لیے طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیاں نہایت ضروری ہیں۔ تمباکو نوشی ترک کرنا، متوازن اور صحت بخش غذا کا استعمال، باقاعدہ ورزش، ذہنی دباؤ میں کمی، مناسب نیند اور بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور شوگر کی باقاعدہ جانچ دل کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کر کے دل کی بیماری کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: دل کی بیماری کے سال کی عمر کے مطابق
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔