شام کا سعودی ایئرلائن ‘فلائی ناس’ کیساتھ مل کر نئی ایئرلائن کے قیام کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
شام کے صدر احمد الشراع کی موجودگی میں فلائی ناس اور شامی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے درمیان نئی ایئرلائن ‘فلائی ناس شام’ کے قیام کا معاہدہ طے پا گیا۔ نئی ایئرلائن کی پروازوں کا آغاز 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں متوقع ہے۔
یہ معاہدہ سعودی عرب اور شام کے درمیان دوطرفہ تعاون اور اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے فریم ورک کے تحت طے پایا، جس میں سعودی وزارتِ سرمایہ کاری اور شامی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن اینڈ ایئر ٹرانسپورٹ نے ہم آہنگی کی۔
یہ بھی پڑھیے: ڈھاکا سے براہِ راست پرواز 14 سال بعد کراچی روانہ ہو گئی
نئی ایئرلائن ایک مشترکہ منصوبے کے طور پر قائم کی جائے گی، جس میں 51 فیصد شیئر شامی سول ایوی ایشن اتھارٹی اور 49 فیصد فلائی ناس کے پاس ہوں گے۔ کمپنی منظور شدہ ضوابط اور اعلیٰ ترین حفاظتی معیارات کے مطابق کمرشل پروازیں چلائے گی، جبکہ تمام لائسنسنگ اور آپریشنل مراحل متعلقہ اداروں کے تعاون سے مکمل کیے جائیں گے۔
فلائی ناس شام مشرق وسطیٰ، افریقہ اور یورپ کے متعدد مقامات کے لیے پروازیں چلائے گی، جس کا مقصد شام سے اور شام کے لیے فضائی آمدورفت کو فروغ دینا اور علاقائی و بین الاقوامی روابط کو مضبوط بنانا ہے۔
سعودی وزیرِ سرمایہ کاری خالد الفالح نے کہا کہ یہ اقدام معیاری سرحد پار سرمایہ کاری کے فروغ کے عزم کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق ہوا بازی کا شعبہ معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور یہ شراکت داری دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات اور علاقائی استحکام کو تقویت دے گی۔
یہ بھی پڑھیے: شام: عثمانی سلطنت کے بانی عثمان اوّل کے دادا سلیمان شاہ کا مزار دہشتگردوں سے بازیاب
شامی سول ایوی ایشن کے سربراہ عمر حصاری نے کہا کہ یہ منصوبہ شام کے فضائی شعبے کی جدید بنیادوں پر ازسرنو تعمیر کی قومی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
فلائی ناس اس وقت ریاض، جدہ اور دمام سے دمشق کے لیے ہفتہ وار 23 پروازیں چلا رہی ہے اور 2025 میں دمشق کے لیے شیڈول پروازیں بحال کرنے والی پہلی سعودی ایئرلائن بنی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایئرلائن پرواز شام فلائی ناس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایئرلائن پرواز فلائی ناس سول ایوی ایشن نئی ایئرلائن سرمایہ کاری فلائی ناس اور شام کے لیے شام کے
پڑھیں:
رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ کے لیے قائم رائل کمیشن نے شہر کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے ایک نئی آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے۔
مذکورہ مہم کا مقصد زائرین اور سیاحوں کو مکہ کے تاریخی مقامات، ان کی مذہبی، تہذیبی اور تمدنی اہمیت سے روشناس کرانا اور انہیں شہر کے عظیم ورثے سے مزید قریب لانا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، یہ تمام اقدامات سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
’یہ مہم رائل کمیشن کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد تاریخی ورثے کا تحفظ، ثقافتی اقدار کو فروغ دینا اور تاریخی مقامات کو پائیدار تعلیمی اور ثقافتی مراکز میں تبدیل کرنا ہے۔‘
رائل کمیشن کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت درجنوں تاریخی مقامات کی بحالی اور ترقی کا کام مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ مکہ کے 60 اہم تاریخی مقامات کی دستاویز بندی بھی کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: مکہ میں ام القریٰ یونیورسٹی کا انقلابی ڈیجیٹل کلچرل منصوبہ، حجاج اور عمرہ زائرین کا سفر اب مزید یادگار
اس کے علاوہ 27 تاریخی مقامات عوام اور زائرین کے لیے کھولے جا چکے ہیں اور سات وزیٹر سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک کروڑ 75 لاکھ سے زائد افراد ان تاریخی مقامات کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ زائرین کی اطمینان کی شرح 97.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
مذکورہ اعدادوشمار فراہم کی جانے والی سہولیات اور تاریخی ورثے کے تحفظ و ترقی کے اقدامات کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تاریخی مقامات تاریخی ورثے رائل کمیشن زائرین سعودی پریس ایجنسی سعودی عرب سعودی وژن سیاح مکہ مکرمہ