مقبوضہ کشمیر، انتظامیہ کی بے حسی کے باعث چناب ویلی پسماندگی کا شکار، محبوبہ مفتی
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
محبوبہ مفتی نے چناب ویلی میں سیاحت کے وسیع امکانات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ڈوڈہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ذریعے پائیدار ترقی کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں انتظامیہ کی مسلسل عدم توجہی پر سخت تنقید کرتے ہوئے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ چناب ویلی کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھا جا رہا ہے اور اس دیرینہ ناانصافی کا فوری خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈوڈہ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ چناب ویلی کی ترقی کے لیے اسے ڈویژن کا درجہ دیا جانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے خطے کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ، ریلوے رابطے اور ہر موسم میں آمد و رفت کے لیے سرنگوں کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا۔ محبوبہ مفتی نے چناب ویلی میں سیاحت کے وسیع امکانات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ڈوڈہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ذریعے پائیدار ترقی کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیمی اور صحت کے اداروں کو بہتر بنانے، خواتین کے لیے ڈگری کالج، کلسٹر یونیورسٹی اور ہنر پر مبنی تعلیمی اداروں کے قیام کا مطالبہ بھی کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محبوبہ مفتی نے چناب ویلی کرتے ہوئے کے لیے
پڑھیں:
بھارتی روپیہ تاریخ کی بدترین گراوٹ کا شکار
نئی دہلی بھارتی کرنسی کو ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے، جہاں بھارتی روپیہ اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پہلی بار ایک امریکی ڈالر کی قدر 97 بھارتی روپے سے تجاوز کر گئی، جس کے بعد کرنسی مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی روپیہ اس سے قبل مئی 2026 میں اپنی ریکارڈ کم ترین سطح 96 روپے 96 پیسے فی ڈالر تک گر گیا تھا، تاہم تازہ گراوٹ نے یہ ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی مسلسل کمزور ہوتی قدر بھارتی معیشت کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے بھارتی روپے پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ چونکہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے، اس لیے تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل میں اضافہ اور امریکی ڈالر کی طلب بڑھ جاتی ہے، جس کا براہِ راست اثر مقامی کرنسی پر پڑتا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق روپے کی گراوٹ کو روکنے کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے زرمبادلہ مارکیٹ میں مداخلت کرتے ہوئے ڈالر فروخت کیے اور روپے کو سہارا دینے کی کوشش کی، تاہم اس کے باوجود کرنسی مزید دباؤ کا شکار رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں بلند رہیں اور بیرونی مالیاتی دباؤ برقرار رہا تو بھارتی روپے کی قدر میں مزید کمی آ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی اشیا مہنگی ہونے، مہنگائی میں اضافے اور صنعتی شعبے پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
معاشی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بھارتی حکومت اور مرکزی بینک کو روپے کے استحکام، مہنگائی پر قابو پانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے مزید مؤثر مالیاتی اور معاشی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ کرنسی مارکیٹ میں استحکام لایا جا سکے۔