مقبوضہ کشمیر، انتظامیہ کی بے حسی کے باعث چناب ویلی پسماندگی کا شکار، محبوبہ مفتی
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
محبوبہ مفتی نے چناب ویلی میں سیاحت کے وسیع امکانات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ڈوڈہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ذریعے پائیدار ترقی کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں انتظامیہ کی مسلسل عدم توجہی پر سخت تنقید کرتے ہوئے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ چناب ویلی کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھا جا رہا ہے اور اس دیرینہ ناانصافی کا فوری خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈوڈہ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ چناب ویلی کی ترقی کے لیے اسے ڈویژن کا درجہ دیا جانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے خطے کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ، ریلوے رابطے اور ہر موسم میں آمد و رفت کے لیے سرنگوں کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا۔ محبوبہ مفتی نے چناب ویلی میں سیاحت کے وسیع امکانات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ڈوڈہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ذریعے پائیدار ترقی کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیمی اور صحت کے اداروں کو بہتر بنانے، خواتین کے لیے ڈگری کالج، کلسٹر یونیورسٹی اور ہنر پر مبنی تعلیمی اداروں کے قیام کا مطالبہ بھی کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محبوبہ مفتی نے چناب ویلی کرتے ہوئے کے لیے
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔