پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ڈپٹی انفارمیشن سیکریٹری اکرام کھٹانہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع میں مکمل ہڑتال ہے، تمام اضلاع میں احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی۔

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ پشاور میں ہشت نگری سے چوک یادگار تک پیدل مارچ کیا جائے گا،  مارچ میں ضلعی قیادت، کارکنان اور تاجر برادری شرکت کرے گی، ا پیدل مارچ کی قیادت صوبائی صدر جنید اکبر، ممبران و ضلعی قائدین کریں گے۔ 

اکرام کھٹانہ نے کہا کہ مارچ کے شرکاء پیدل مارچ کرکے چوک یادگار پہنچیں گے، چوک یادگار میں پارٹی رہنما کارکنان سے خطاب کریں گے، صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی ضلعی سطح پر احتجاجی مظاہرے ہوں گے، تمام اضلاع میں ایم این ایز اور ایم پی ایز احتجاج کی قیادت کریں گے۔

افغانستان میں سرگرم 20 سے زیادہ دہشت گرد تنظیمیں دنیا کیلئے خطرہ ہیں: بلال اظہر کیانی

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: اضلاع میں

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا