اسلام آباد خودکش دھماکہ: حملہ آور دھماکے سے قبل کیا کچھ کرتا رہا؟ تفصیلات سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد کی مسجد اور امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات جاری ہیں اور اس دوران کئی اہم اور تشویشناک تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور نے مسجد پہنچنے سے قبل راستے میں دو جبکہ ہال کے اندر چھ فائر کیے، جس کے بعد ہال میں داخل ہو کر خودکش دھماکا کیا۔ حملے میں تقریباً چار کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا جبکہ دھماکے میں بال بیئرنگ کی بڑی مقدار شامل تھی۔
تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور نوشہرہ سے خودکش جیکٹ پہن کر پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے اسلام آباد آیا۔ اسلام آباد پہنچنے کے بعد وہ کچھ دیر قریبی ہوٹل میں رکا اور پھر کھنہ روڈ سے پیدل چلتے ہوئے مسجد تک پہنچا۔
ذرائع کے مطابق ملزم نے دو فروری کو مسجد کی ریکی کی تھی۔ اس سے قبل وہ مئی میں افغانستان گیا اور جون میں واپس آیا۔ افغانستان سے واپسی کے بعد اس نے باجوڑ میں ایک نئی موبائل سم بھی ایکٹیویٹ کی۔
واضح رہے کہ 6 فروری کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں ہونے والے خودکش دھماکے میں 33 افراد شہید جبکہ 150 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلام آباد
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔