سی این این نے لاہور میں تقریباً 25 برس بعد منائے جانے والے بسنت فیسٹیول پر خصوصی ویڈیو رپورٹ نشر کرتے ہوئے شہر کی فضاؤں کو رنگ برنگی پتنگوں سے سجا ہوا دکھایا اور اس موقع کو ‘ناقابلِ فراموش ویک اینڈ’ قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق بسنت موسمِ بہار کی آمد کی علامت ہے اور اسے برسوں تک 2007 میں عائد پابندی کے باعث نہیں منایا گیا۔ سی این این نے نشاندہی کی کہ ماضی میں دھاتی اور شیشے لگی ڈور کے استعمال، چھتوں سے گرنے اور کرنٹ لگنے کے واقعات کے بعد یہ تہوار ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ تاہم اب سخت حفاظتی اقدامات کے ساتھ اسے محدود مدت کے لیے بحال کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: محفوظ بسنت پر عملدرآمد، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا اہلِ لاہور کو خراجِ تحسین

سی این این نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے صرف مجاز فروخت کنندگان سے پتنگیں خریدنے کی شرط عائد کی ہے اور حکام کے مطابق ایک لاکھ سے زائد پتنگیں ضبط بھی کی جا چکی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بسنت کی واپسی پر طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، پتنگیں اپنی اصل قیمت سے 4 گنا تک فروخت ہو رہی ہیں جبکہ مرکزی مقامات کی چھتیں لاکھوں روپے میں کرائے پر دی جا رہی ہیں۔ چند ہی دنوں میں کروڑوں روپے کی پتنگیں فروخت ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔

@cnnBasant, a historic kite flying festival that had been banned for 25 years for safety reasons has finally returned to the Pakistani city of Lahore this weekend amidst much joy and excitement.

Activities around the long awaited spring festival have been toned down after a deadly suicide attack killed dozens in the capital on Friday.

♬ original sound – CNN

سی این این کے مطابق بسنت 3 روزہ تقریبات تک محدود ہے اور اس دوران سیکیورٹی اور حفاظتی انتظامات پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، تاہم ایک بات واضح ہے کہ لاہور ایک بار پھر رنگوں، جوش اور خوشی سے بھرپور منظر پیش کر رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

Basant cnn بسنت سی این این

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سی این این

پڑھیں:

لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی

فائل فوٹو

ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن نےلاہور میں بلدیاتی الیکشن کی نئی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی ہے، جن میں 159 یونین کونسلز کا اضافہ کیا گیا ہے۔

صوبائی دارالحکومت میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں، 2015 کے بلدیاتی الیکشن میں لاہور میں 274 یونین کونسلز تھیں۔

ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن لاہور کی ابتدائی فہرست کے مطابق راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسل قائم کی گئی ہیں۔

ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40 اور صدر کینٹ میں 29، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونین کونسل بنائی گئی ہیں۔

لاہور کے شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائر کرسکتے ہیں، حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10 اگست کو جاری ہوگی۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ