لاہور: امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے بھی بسنت منائی
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
اسکرین گریب
پاکستان میں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے بھی لاہور میں بسنت منائی اور بسنت کی مناسبت سے لباس زیب تن کیا۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب اور عظمیٰ بخاری کے ہمراہ امریکی سفارتی وفد نے بسنت کی تقریبات میں شرکت کی۔
مریم اورنگزیب نے امریکی سفارتکاروں کو پتنگ اڑانی سکھائی، انہوں نے بسنت کے موقع پر کی گئی سجاوٹ اور دیگر تیاریوں سے بھی آگاہ کیا۔
امریکی سفیر، قونصل جنرل اور انڈر سیکریٹری نے پتنگ اڑائی اور وفد نے لاہوری کھانوں، ثقافت، ثقافتی ورثے اور مہمان نوازی کو سراہا۔
اس موقع پر مریم اورنگزیب نے کہا کہ ثقافتی سرگرمیاں قوموں کو قریب لانے کا مؤثر ذریعہ ہیں، پاکستان اپنی روایات کے ذریعے دوستی کا پیغام دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بسنت جیسے تہوار پاکستان کی مثبت اور پُرامن شناخت کو اجاگر کرتے ہیں، امریکی سفارتی وفد کو روایتی پتنگ بازی سے روشناس کرایا گیا۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ امریکی وفد سے غیر رسمی ماحول میں دوستانہ تبادلہ خیال ہوا، ایسے مواقع باہمی اعتماد اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ثقافت، مہمان نوازی اور امن کے پیغام کے ساتھ دنیا سے جُڑا ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مریم اورنگزیب
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔