دھابیجی میں پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کا بریک ڈاؤن، پائپ لائن پھٹ گئی
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
لائن کی مرمت میں 24 گھنٹے کا وقت لگے گا، کراچی کو پانی کی فراہمی میں سو ملین گیلن کمی کا سامنا رہے گا۔ اسلام ٹائمز۔ دھابیجی میں پانی کے بیک پریشر سے 72 انچ قطر کی پائپ لائن نمبر 5 ایک بار پھر پھٹ گئی ہے۔ دھابیجی میں پائپ لائن پھٹنے سے لاکھوں گیلن پانی ضائع ہو گیا ہے اور بڑا علاقہ زیر آب آگیا ہے۔ واٹر کارپوریشن کے عملے نے متاثرہ لائن کا وال بند کرکے مرمت کا کام ہنگامی بنیاد پر شروع کر دیا ہے۔ واٹر کارپوریشن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لائن کی مرمت میں 24 گھنٹے کا وقت لگے گا۔ کراچی کو پانی کی فراہمی میں سو ملین گیلن کمی کا سامنا رہے گا۔ واضح رہے کہ چار روز قبل بھی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کے بریک ڈاؤن سے 2 لائنیں لائن نمبر 5 اور لائن نمبر 2 پھٹ گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔