اسلام آباد حملے کے ذمہ داروں کو نشانِ عبرت بنایا جائے: مفتی تقی عثمانی
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قائدین صدر وفاق مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، سینئر نائب صدر مولانا انوار الحق، ناظم اعلیٰ وفاق المدارس مولانا محمد حنیف جالندھری اور دیگر رہنماؤں نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملے کو افسوسناک اور قابلِ مذمت قرار دیا ہے۔
اپنے مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ بے گناہ لوگوں کی جان لینا اور خون بہانا کسی صورت جائز نہیں۔ مساجد، امام بارگاہوں اور مدارس میں اس نوعیت کی کارروائیاں کرنے والے انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی خونریز وارداتیں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش ہیں۔
وفاق المدارس کے قائدین نے مطالبہ کیا کہ اس ظالمانہ کارروائی میں ملوث عناصر اور ان کے نیٹ ورک کا سراغ لگا کر انہیں نشانِ عبرت بنایا جائے۔ انہوں نے ملک بھر کی مساجد، امام بارگاہوں اور مدارس کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے پر زور دیا۔
دریں اثنا، قومی پیغامِ امن کمیٹی اور ملک بھر کے علماء و مشائخ نے سانحہ ترلائی کے بعد اتحادِ اُمت اور قومی یکجہتی کا واضح پیغام دیتے ہوئے فرقہ واریت پھیلانے کی بھارت نواز سازش کو ناکام بنانے کا اعلان کیا۔
حافظ طاہر محمود اشرفی کی قیادت میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء نے امام بارگاہ اور مسجد خدیجۃ الکبریٰ کا مشترکہ دورہ کیا، زخمیوں کی عیادت کی، دعائیں کیں اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔ علماء نے کہا کہ نفرت کے مقابلے میں احترام، ہم آہنگی اور یکجہتی ہی ہمارا جواب ہے۔
مدارس بورڈز اور دینی قیادت نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ جدوجہد جاری رہے گی اور افواجِ پاکستان اور سلامتی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔
علماء و مشائخ نے کہا کہ سانحہ ترلائی کا مقصد نفرت اور تشدد کو فروغ دینا تھا مگر دینی قیادت نے بروقت اتحاد کا مظاہرہ کر کے اس بیانیے کو دفن کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دشمن قوتیں فرقہ وارانہ تقسیم چاہتی ہیں مگر قومی پیغامِ امن کمیٹی نے اس سازش کو بے نقاب کر دیا ہے۔
قومی دفتر میں منعقدہ مشترکہ نشست میں دہشت گردی کے خلاف متحدہ حکمتِ عملی پر اتفاق کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ اتحاد و یکجہتی کی سرگرمیاں مستقل بنیادوں پر جاری رکھی جائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔