تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی جانب سے 8 فروری کو مبینہ دھاندلی کے خلاف شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کی کال پر ملک بھر میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اور مظاہرے بھی ہوئے، تاہم زیادہ تر علاقوں میں مارکیٹیں کھلی رہیں اور ٹریفک بھی بحال رہی۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مطابق خیبرپختونخوا میں احتجاج اور مظاہرے ہوئے، جن میں بڑی تعداد میں کارکنوں نے شرکت کی۔

مزید پڑھیں: 8 فروری احتجاج، اپوزیشن کی پہیہ جام کی اپیل ناکام، ملک بھر میں بڑے بازار کھلے رہے

’پشاور میں احتجاجی ریلی، دکانیں اور مارکیٹیں کھلی رہیں‘

پشاور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 8 فروری کو مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کیا گیا اور ریلی نکالی گئی۔ ریلی ہشتنگری چوک سے شروع ہوئی جو تاریخی چوک یادگار پہنچی، جہاں صوبائی قائدین نے خطاب کیا۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کا 8 فروری کو الیکشن دھاندلی کے خلاف شٹر ڈاؤن و پہیہ جام احتجاج۔
پشاور میں زندگی معمول کے مطابق جاری، سرکاری ٹرانسپورٹ اور بی آر ٹی بھی معمول کے مطابق بحال۔ pic.

twitter.com/TP0Y5Hh7c6

— WE News (@WENewsPk) February 8, 2026

پی ٹی آئی رہنما شاندانہ گلزار نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آج پُرامن احتجاج کا مقصد قوم کو بتانا ہے کہ ملک میں جعلی حکومت قائم ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج ہم دھاندلی، دہشتگردی اور لاقانونیت کے خلاف نکلے ہیں۔

پی ٹی آئی کی پُرامن ریلی چوک یادگار پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔

پی ٹی آئی کے دعوؤں کے برعکس پشاور میں اکثر مارکیٹیں اور دکانیں کھلی رہیں۔ پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے دعویٰ کیاکہ پشاور میں مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہے، اور جو گاڑیاں نظر آ رہی ہیں وہ پی ٹی آئی کارکنوں کی ہیں۔

تاہم ان کے دعوؤں کے برعکس دکانیں کھلی رہیں اور ٹریفک کی روانی بھی بحال رہی۔ سرکاری ٹرانسپورٹ بی آر ٹی سروس بھی معمول کے مطابق چلتی رہی۔

صدر بازار، فردوس چوک، ہشتنگری اور دیگر علاقوں میں دکانیں کھلی رہیں۔

خیبرپختونخوا کے کن اضلاع میں مظاہرے ہوئے؟

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی فرنٹ پر رہی، جبکہ دیگر اپوزیشن جماعتیں نظر نہیں آئیں۔ صدر پی ٹی آئی خیبر پختونخوا جنید اکبر کے مطابق صوبے کے تمام اضلاع میں مظاہرے ہوئے۔

پی ٹی آئی کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات اکرام کھٹانہ کے مطابق چترال سے ڈی آئی خان تک احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چترال میں مکمل شٹر ڈاؤن احتجاج ہوا جبکہ سوات میں دکانیں مکمل بند رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام اضلاع میں کارکنان منتخب نمائندوں کی قیادت میں احتجاج کے لیے نکلے۔

لاہور میں احتجاج کیوں نہیں ہوا؟

لاہور میں زندگی معمول کے مطابق رہی اور کہیں بھی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاج یا مظاہرے نہیں ہوئے۔

لاہور میں پی ٹی آئی کی کال پر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال ناکام، شہر بھر میں بازار معمول کے مطابق کھلے جبکہ ٹرانسپورٹ رواں دواں ہے۔ pic.twitter.com/nZuqCKZhiT

— WE News (@WENewsPk) February 8, 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ کے مطابق کارکنوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ احتجاجاً گھروں میں ہی رہیں اور باہر نہ نکلیں۔

انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ شام کے وقت مشعل بردار ریلی کی کال دی گئی ہے، جبکہ دن کے وقت لوگ گھروں پر ہی رہیں گے۔

دوسری جانب لاہور سمیت پنجاب کے دیگر اضلاع میں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں رہی اور لوگ بسنت منانے میں مصروف رہے۔

کراچی اور سندھ

کراچی اور سندھ کے دیگر اضلاع میں بھی کہیں احتجاجی مظاہرے نہیں ہوئے اور زندگی معمول کے مطابق جاری رہی۔ کراچی میں مارکیٹوں میں رش معمول کے مطابق رہا اور لوگ عام خریداری میں مصروف نظر آئے۔

کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر اضلاع میں بھی یہی صورتِ حال رہی۔ پی ٹی آئی کو امید تھی کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے اسٹریٹ موومنٹ کے بعد کارکنان نکلیں گے، تاہم صورتِ حال مختلف رہی۔

بلوچستان میں احتجاج

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کوئٹہ میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال پر کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں مظاہرے ہوئے۔ مختلف اضلاع میں جلاؤ گھیراؤ کے باعث مارکیٹیں اور دکانیں بند ہو گئیں۔

مظاہرین نے کوئٹہ کی مختلف سڑکیں ٹائر جلا کر بند کر دیں، جبکہ کوئٹہ کے مختلف علاقوں سے پولیس نے مظاہرین کی گرفتاریاں بھی کیں۔

مزید پڑھیں: تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ملک گیر احتجاج، محمود خان اچکزئی منظرِ سے غائب

پولیس کے مطابق زبردستی دکانیں بند کروانے والوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے اور اب تک 22 مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ ہے۔

راولپنڈی: پی ٹی آئی کی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کال غیر مؤثر، تمام بازار اور ٹریفک معمول کے مطابق، تاجر اور ٹرانسپورٹرز نے احتجاج کو مسترد کر دیا۔
احتجاج کے حوالے سے راولپنڈی میں پی ٹی آئی نے کوئی لائحہ عمل جاری نہیں کیا، مقامی تنظیم بھی اس سے لاعلم نکلی۔ pic.twitter.com/1PP8837qkz

— WE News (@WENewsPk) February 8, 2026

جڑواں شہروں کی صورتِ حال

جڑواں شہر اسلام آباد اور راولپنڈی میں صورتِ حال معمول کے مطابق رہی، تاہم حکومت نے میٹرو بس سروس کو بند کیے رکھا، لیکن مارکیٹیں معمول کے مطابق کھلی رہیں اور پہیہ بھی چلتا رہا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 فروری احتجاج wenews اسٹریٹ موومنٹ پی ٹی آئی تحریک تحفظ آئین پاکستان عمران خان رہائی وی نیوز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹریٹ موومنٹ پی ٹی ا ئی تحریک تحفظ ا ئین پاکستان عمران خان رہائی وی نیوز زندگی معمول کے مطابق کے دیگر اضلاع میں مظاہرے ہوئے تحریک تحفظ کی جانب سے کھلی رہیں پشاور میں پی ٹی آئی اور پہیہ پہیہ جام رہیں اور شٹر ڈاؤن کے خلاف کی کال

پڑھیں:

24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا

علامتی فوٹو

حکومت نے مسلسل تیسرے روز پیٹرول جبکہ چوتھے روز ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔

اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں 24 جولائی کے لیے ہوں گی۔

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ خطے کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔

اوگرا وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے بغیر قیمتوں کا اعلان کرے گا، جبکہ ہفتہ اور اتوار کو گزشتہ اعلان کردہ قیمتیں برقرار رہیں گی۔

یومیہ اعلان کے تحت اب تک کی تبدیلی

علم میں رہے کہ 21 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 35 پیسے کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔

22 جولائی کیلئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 93 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔

اسی طرح 23 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل