بیرونِ ممالک میں بھارتی نژاد مجرموں کے بارے میں سنسنی خیز انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) بیرونِ ممالک میں بھارتی نژاد مجرموں سے متعلق سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک میں بھارتی شہریوں کی گرفتاریوں، تحقیقات اور ملک بدری کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق امریکی امیگریشن ڈیٹا بیس کے اعلیٰ ترجیحی مجرمانہ کیسز کی فہرست میں 89 بھارتی نژاد افراد بھی شامل پائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر ان افراد کے نام اور ان پر عائد جرائم کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق ان بھارتی نژاد افراد پر جنسی جرائم، منشیات کی اسمگلنگ، مالی فراڈ، اغوا، منی لانڈرنگ اور پرتشدد کارروائیوں جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ افراد مختلف ریاستوں میں زیرِ تفتیش رہے یا سزا یافتہ قرار پائے، جنہیں بعد ازاں امیگریشن قوانین کے تحت ملک بدری کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب انڈین ایکسپریس نے بھی 2025 کے دوران امریکہ سے 3800 غیر قانونی بھارتی شہریوں کی ملک بدری کا انکشاف کیا ہے۔ اخبار کے مطابق یہ افراد غیر قانونی طور پر امریکہ میں مقیم تھے یا مختلف نوعیت کے مقدمات میں مطلوب قرار دیے گئے، جس کے بعد انہیں واپس بھارت بھیجا گیا۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت، سماجی عدم استحکام اور متنازع عدالتی نظام عالمی سطح پر بھارتی معاشرے کی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بیرونِ ملک بھارتی شہریوں سے جڑے جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات نے بین الاقوامی برادری میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مودی حکومت داخلی سطح پر انتہا پسند بیانیے کے ذریعے اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف بھارتی شہریوں کے ملوث ہونے والے جرائم دنیا بھر میں بھارت کے لیے شرمندگی کا باعث بن رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت نے اپنے داخلی نظامِ انصاف اور سماجی ڈھانچے میں اصلاحات نہ کیں تو مستقبل میں اس طرح کے واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق عالمی ادارے اور میزبان ممالک اب بھارتی شہریوں کی امیگریشن اور پس منظر کی جانچ پڑتال مزید سخت کرنے پر غور کر رہے ہیں، جس سے بھارت کی عالمی ساکھ کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارتی شہریوں بھارتی نژاد میں بھارت کے مطابق
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین