اسلام آباد‘ راولپنڈی‘ لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے + نمائندہ خصوصی + خصوصی نامہ نگار + نوائے وقت رپورٹ) مرکزی جامع مسجد و امام بارگاہ قصر خدیجۃ الکبریٰ ترلائی اسلام آباد میں دہشتگردی کے واقعہ کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا، خود کش بمبار یاسر ولد بہادر خان کے بہنوئی کو کراچی سے گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے بھائی کو پشاور سے گرفتار کر لیا گیا۔ اہم سہولت کار نوشہرہ میں مارا گیا، سب سے اہم گرفتاری، خود کش بمبار کی والدہ کو اسلام آباد کے پوش سیکٹر کے گھر سے گرفتار کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعے پر اداروں نے پورے ملک میں آپریشنز شروع کر رکھے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ ترلائی کلاں خود کْش دہشت گردی کی تحقیقات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے  والے اداروں کے پشاور اور نوشہرہ میں چھاپے اور گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ آپریشنز ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلی جینس کے نتیجے میں کیے گئے سکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ خود کْش حملہ آور کے چار سہولت کار گرفتار کئے گئے ہیں، خود کْش حملے کا داعش افغان ماسٹر مائنڈ بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ سکورٹی ذرائع نے بتایا کہ حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی۔ افغان طالبان کی سرپرستی میں داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں خطے اور عالمی امن کے لئے  بڑا خطرہ ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران ایک جوان شہید اور تین زخمی ہو گئے۔ ترلائی کلاں میں امام بارگاہ میں نماز جمعہ کے دوران خود کش دھماکے کی تحقیقات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شواہد جمع کر لیے۔ شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد بھی لی گئی۔ ذرائع کے مطابق خود کش بمبار نے پہلے فائرنگ کی، فائرنگ کے بعد حملہ آور نے امام بارگاہ کے ہال میں جا کر خود کو اڑا لیا۔ حملہ آور نے چار سے چھ کلو بارودی مواد استعمال کیا۔ خودکش دھماکے میں بال بیرنگ کی مقدار زائد استعمال کی گئی۔ ذرائع نے کہا کہ حملہ آور نے راستے میں 2 جبکہ اندر داخل ہو کر 6 گولیاں چلائیں۔ تمام گولیوں کو خول جائے وقوعہ سے بطور شواہد اکٹھے کر لیے گئے۔ دریں اثناء شہدائے سانحہ مسجد خدیجۃ الکبریٰ ترلائی میں شہداء کی تعداد 33 ہو گئی۔ اجتماعی نمازِ جنازہ ترلائی کلاں اسلام آباد میں سوگواروں، اشکبار آنکھوں، آہوں اور سسکیوں میں ادا کر دی گئی۔ سربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ علامہ آغا سید حسین مقدسی نے اجتماعی نمازِ جنازہ کی امامت کی۔ نمازِ جنازہ سے قبل سیکرٹری جنرل ٹی این ایف جے علامہ راجہ بشارت حسین امامی نے واضح کیا کہ دہشت گردی و ظلم و بربریت شیعیان حیدر کرار کو راہِ حسینیت سے نہیں ہٹا سکتی، ماضی میں بھی ہمیں خودکش حملوں کا نشانہ بنایا گیا، ہمیں خون میں نہلایا گیا مگر نہ ہمارے قدم ڈگمگائے نہ ہی امن کے جھنڈے کو جھکنے دیا۔ علامہ بشارت امامی نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے مطالبہ کیا کہ آپ کے 72 گھنٹوں کے الٹی میٹم کے دوران ہی مجرموں کو گرفتار اور کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم نے اس المناک سانحے پر دس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ شہدائے سانحہ ترلائی کی میتیں آبائی علاقوں کے لیے روانہ کی گئیں جبکہ مقامی شہدا کو ترلائی میں گنجِ شہدا میں سپردِ خاک کیا گیا۔ امام بارگاہ جامع صادق جی نائن میں شہداء کی نماز جنازہ آغا شیخ محمد شفا نجفی نے پڑھائی۔ جس میں اپوزیشن لیڈر، آئی جی اسلام آباد، سیاسی و مذہبی شخصیات اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ دوسری جانب مسجد و امام بارگاہ خدیجۃ الکبری ترلائی میں دوران نماز جمعہ ہونے والی دہشت گردی کے خلاف شہدا کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیلئے شیعہ علماء کونسل 'مجلس وحدت المسلمین 'امامیہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل امامیہ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن پاکستان اور انجمن جانثاران اہلیبیت کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی امام بارگاہ سکینہ بنت الحسین شکریال سے نکالی گئی۔ ریلی میں بزرگ خواتین 'بچوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر دہشت گردی کی مذمت 'کالعدم جماعتوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ ریلی کے شرکاء نعرے بلند کرتے ہوئے ایکسپریس ہائی وے پر مارچ کیا، شہداء کو خراج تحسین پیش کیا، مقررین نے کہاکہ شہادت ہماری میراث ہے ہم دشمن اسلام اور دشمن پاکستان کی اس طرح کی بزدلانہ کارروائیوں سے ڈرنے والے نہیں، ایک قرارداد منظور کی گئی کہ شہداء کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔ راولپنڈی اسلام آباد کے تمام مساجد امام بارگاہ کو فل پروف سکیورٹی فراہم کی جائے۔ لاہور میں بھی پریس کلب کے سامنے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ جس کی قیادت سید علی دانش نقوی اور علامہ مبارک موسوی نے کی۔ قائد حزب اختلاف سینٹ و سربراہ مجلس وحدت المسلمین راجہ ناصر عباس کی اپیل پر ملک بھر میں پرامن احتجاج ہوا۔ علاوہ ازیں علامہ سید فصاحت حسین گردیزی سیکرٹری جنرل تحریک نفاذ فقہ جعفریہ فیڈرل کیپیٹل اسلام آباد کے مطابق سانحہ دہشتگردی خودکش دھماکہ جامع مسجد و امام بارگاہ قصر خدیجۃ الکبری ترلائی کلاں اسلام آباد کے شہداء کا سوئم اتوار کو قصر خدیجۃ الکبری میں ہو گا۔ 2 بجے قرآن خوانی اور 3 بجے مجلسِ عزا ہوگی جس سے ملک کے نامور علماء و ذاکرین خطاب کریں گے۔ آخر میں اجتماعی دعا اور فاتحہ خوانی ہو گی۔
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے + نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے سانحہ ترلائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد چند کوڑیوں کی خاطر مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں، ان کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے، انہیں مکمل نکیل ڈالیں گے۔.

سانحہ ترلائی پر پورے ملک کی فضا سوگوار ہے، خود کش بمبار کی شناخت ہوچکی ہے، مزید تحقیقات جاری ہیں، ہمارا عزم بہت واضح ہے کہ دہشت گردوں کو نہیں چھوڑنا، دہشت گردوں کیلئے زمین تنگ کر دیں گے، ملکی سلامتی کے لیے پاک فوج قربانیوں کی داستانیں رقم کر رہی ہے، حکومت شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے، سوگوار خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر سانحہ ترلائی کے زخمیوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں مدرسہ منہاج الحسین میں ڈاکٹر محمد حسین اکبر اور دیگر علماء کرام کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سانحہ ترلائی پر ملک بھر کی فضا سوگوار ہے۔ ملک میں شرپسندی اوربدامنی پھیلانے کی ہر گز کسی کو اجازت نہیں دیں گے، واقعہ میں ملوث عناصر کو جلد کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ واقعہ میں ملوث ان فتنہ خوارج کے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا پیچھا کریں گے اور جلد ان کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے۔ ان کے خاتمے میں ہی ملک و قوم کی بہتری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ترلائی کے خود کش بمبار کی شناخت ہو چکی ہے، خود کش بمبار نے افغانستان سے دہشت گردی کی کارروائیوں کی تربیت بھی حاصل کی۔ دھماکوں کے پیچھے بھارت اور افغانستان جیسے پلانٹڈ عناصر ملوث ہیں۔ فرانزک ٹیم اور سکیورٹی اداروں نے واقعہ کے شواہد حاصل کر لیے ہیں۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے امام بارگاہ کے منتظمین سے ملاقات کی، وزیراعظم نے واقعہ کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے ذمہ داران کے فوری تعین کا حکم دیا ہے۔ امام بارگاہ کے منتظمین کو ہر ممکن تعان اور تحقیقات کی یقین دہانی کروائی ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی مدبرانہ قیادت میں پیغام امن کمیٹی کے قیام کا مقصد بھی ملک میں امن کے فروغ اور دہشت گردوں کے بیانیے کا خاتمہ ہے۔ پیغام امن کمیٹی میں تمام مکاتب فکر کے لوگ شامل ہیں جو امن کے بیانیے کو ملک کے کونے کونے تک پہنچا رہے ہیں۔ واقعہ میں زخمی ہونے والے 170 افراد کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ شہدا کے والدین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ دہشت گرد آخری سانس لے رہے ہیں، اب سافٹ ٹارگٹ نے کے لیے دور دراز علاقوں میں کارروائیاں کر رہے ہیں، دہشت گرد اپنے خاتمے کے قریب ہیں، جلد ان کا قلع قمع کر دیا جائے گا۔  پاک فوج اور سکیورٹی ادارے ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ پاک فوج ملکی سلامتی کے لیے قربانیوں کی داستانیں رقم کر رہی ہے۔ اسلام آباد خودش کش دھماکے میں آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کے قریبی رشتہ دار بھی زد میں آئے ہیں، جعفر ایکسپریس کے کامیاب آپریشن پر دنیا بھر کی انٹیلی جنس ایجنسیاں پاکستان کی معترف ہیں۔ ہمارا عزم بڑا واضح ہے کہ ہم نے دہشت گردوں کو نہیں چھوڑنا، آپریشن رد الفساد اور آپریشن ضرب عضب کے بعد امن و امان قائم ہو چکا تھا، طالبان خان کی سوچ نے ان دہشت گردوں کو واپس لا کر بسایا تھا جس کا خمیازہ آج ہم بھگت رہے ہیں۔ اس دہشت گردی کے پیچھے پی ٹی آئی ہے۔ وزیر داخلہ اور وزارت داخلہ پوری طرح متحرک ہیں۔ پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے نوابزادہ نصراللہ خان کے اشعار بھی پڑھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد حسین اکبر نے کہا کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔ دشمن ہمیں کمزور کرنا چاہتا ہے، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والوں کے خلاف پوری قوم متحد ہے۔ تمام مسالک مل کر سازش ناکام بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ خود کش حملے کی تحقیقات کے بعد حقائق کو منظر عام پر لاتے ہوئے خود کش حملے میں ملوث شر پسندوں اور ان کے سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کرقرار واقعی سزا دی جانا چاہیے۔ بعد ازاں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے وفاقی وزیر کے ساتھ مل کر ہاتھوں کی زنجیر بنائی اور اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ علاوہ ازیں، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بھارت دہشتگردوں کو فنڈنگ اور ٹارگٹس دے رہا ہے، دنیا بھر میں ہونے والی دہشتگردی میں بھارت ملوث ہے، انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کارروائی سے بہت سے دہشتگرد منصوبوں کو ناکام بنایا گیا، ہم حالت جنگ میں ہیں ، کمیونٹی انٹیلی جنس کو بہتر بنانا ہو گا۔ افغانستان سے دہشتگردوں کے بہت سے گروہ آپریٹ کر رہے ہیں، اسلام آباد دھماکے کی ساری منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی۔ ماسٹر مائنڈ کا تعلق داعش سے ہے اور وہ ہماری حراست میں ہے۔ خود کش دھماکے کے متاثرین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ دہشتگرد بزدلوں کی طرح معصوم شہریوں پر حملے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کارروائی سے بہت سے دہشتگرد منصوبوں کو ناکام بنایا گیا، دھماکے کی ساری منصوبہ بندی افغانستان سے ہوئی، خود کش بمبار تربیت کے لئے افغانستان گیا تھا، افغانستان سے دہشتگردوں کے بہت سے گروہ آپریٹ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ  داعش کو تمام فنڈنگ اور ٹارگٹ بھارت دے رہا ہے،  ماسٹر مائنڈ کا تعلق داعش سے ہے اور ہماری حراست میں ہے ، کارروائی کے دوران ایک اہلکار شہید اور تین زخمی ہوئے۔ سکیورٹی اداروں نے دھماکے کے تمام ذمہ داروں کو پکڑ لیا ہے ، نوشہرہ اور پشاور میں 4 سہولت کار گرفتار کئے گئے، آنے والے دنوں مزید بریف کریں گے،  خود کش بمبار سے رابطے میں رہنے والے تمام افراد پکڑے جاچکے تھے۔ سی ٹی ڈی خیبر پی کے نے گرفتاری میں اہم کردار ادا کیا۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کارروائی سے بہت سے دہشتگرد منصوبوں کو ناکام بنایا گیا۔ بھارت دہشتگردوں کو فنڈنگ اور ٹارگٹس دے رہا ہے، دنیا بھر میں ہونے والی دہشتگردی میں بھارت ملوث ہے۔ مئی کے بعد بھارت میں دہشتگردوں کی فنڈنگ تین گنا بڑھا دی  گئی ہے۔ہمیں ساری چیزوں کا پتا ہے، جس  دہشتگرد کو پہلے 500 ڈالر مل رہے تھے اس کواب 1500ڈالر مل رہے ہیں، ایک دن دنیا بھارت کی دہشتگردی پر خاموشی توڑے گی۔ بی ایل اے کو عالمی سطح پر کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ کالعدم تنظیموں کو ساری فنڈنگ اورٹارگٹ بھارت دے رہا ہے، بھارت نے فرنٹ پر اْن دہشت گرد تنظیموں کو رکھا ہوا ہے۔ بھارت جنگ نہ جیتنے پر اب یہ طریقہ آزما رہا ہے، بھارت چاہے بجٹ 10 گنا بڑھا لے ہم پھر بھی اسے شکست دیں گے۔  خیبر پی کے ہو یا بلوچستان ہم اس وقت حالتِ جنگ میں ہیں، کمیونٹی کی انٹیلی جنس اہم ہے۔ دعوے سے کہتا ہوں ایک دھماکا ہوا لیکن 99 دھماکے  روکے بھی ہیں۔ بلوچستان میں جتنے دہشتگرد حملے ہوئے، جو آیا بچ کر نہیں گیا، بی ایل اے وڈیو بناتی ہے جو بھارتی میڈیا پر چلی ہے۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کارروائی سے بہت سے دہشت گرد منصوبوں کو ناکام بنایا گیا۔ دشمن کی کیٹیگریز نہیں بنتیں، پاکستان کے خلاف جنگ کرنے والے کو کیٹیگریز میں تقسیم نہ کریں، نوائے وقت رپورٹ کے مطابق محسن نقوی نے کہا کہ 21 دہشتگرد تنظیمیں افغانستان سے چل رہی ہیں۔ خودکش بمبار کا اہم سہولت کار نوشہرہ میں ہلاک ہوا۔ آپریشن کے دوران ایک جوان شہید‘ 3 زخمی ہوئے۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ‘ قطر اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے اسلام آباد کی مسجد میں دہشت گرد حملے کی مذمت کی ہے۔ او آئی سی  نے کہا ہے کہ حملے کے متاثرین‘ پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ گہری ہمدردی ہے۔ دہشت گرد حملے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعاگو ہیں۔ ہر قسم کی دہشت گردی اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: گرد منصوبوں کو ناکام بنایا گیا اسلام ا باد کے سانحہ ترلائی خدیجۃ الکبری افغانستان سے انہوں نے کہا دہشت گردی کی ترلائی کلاں امام بارگاہ سے دہشتگرد وزیر داخلہ کی تحقیقات وفاقی وزیر کر رہے ہیں سہولت کار کش دھماکے فنڈنگ اور محسن نقوی دے رہا ہے حملہ ا ور نے کہا کہ کے دوران کے مطابق گردوں کو نے والے گردی کے کے خلاف زخمی ہو کے بعد کے لیے امن کے میں ہو

پڑھیں:

سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ اسلام ٹائمز۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 24 مئی ٹرین حادثے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کئے، آپریشن کا سلسلہ مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں شروع کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں ہندوستانی پراکسی فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور دیسی ساختہ بم بھی برآمد ہوئے، ہلاک دہشت گرد علاقے میں دہشت گرد کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہے، عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی، ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی