اسلام آباددھماکہ افغان ماسٹر مائنڈ گرفتار ،بھارت ملوث عطاتارڑ، محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
اسلام آباد‘ راولپنڈی‘ لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے + نمائندہ خصوصی + خصوصی نامہ نگار + نوائے وقت رپورٹ) مرکزی جامع مسجد و امام بارگاہ قصر خدیجۃ الکبریٰ ترلائی اسلام آباد میں دہشتگردی کے واقعہ کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا، خود کش بمبار یاسر ولد بہادر خان کے بہنوئی کو کراچی سے گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے بھائی کو پشاور سے گرفتار کر لیا گیا۔ اہم سہولت کار نوشہرہ میں مارا گیا، سب سے اہم گرفتاری، خود کش بمبار کی والدہ کو اسلام آباد کے پوش سیکٹر کے گھر سے گرفتار کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعے پر اداروں نے پورے ملک میں آپریشنز شروع کر رکھے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ ترلائی کلاں خود کْش دہشت گردی کی تحقیقات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پشاور اور نوشہرہ میں چھاپے اور گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ آپریشنز ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلی جینس کے نتیجے میں کیے گئے سکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ خود کْش حملہ آور کے چار سہولت کار گرفتار کئے گئے ہیں، خود کْش حملے کا داعش افغان ماسٹر مائنڈ بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ سکورٹی ذرائع نے بتایا کہ حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی۔ افغان طالبان کی سرپرستی میں داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں خطے اور عالمی امن کے لئے بڑا خطرہ ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران ایک جوان شہید اور تین زخمی ہو گئے۔ ترلائی کلاں میں امام بارگاہ میں نماز جمعہ کے دوران خود کش دھماکے کی تحقیقات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شواہد جمع کر لیے۔ شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد بھی لی گئی۔ ذرائع کے مطابق خود کش بمبار نے پہلے فائرنگ کی، فائرنگ کے بعد حملہ آور نے امام بارگاہ کے ہال میں جا کر خود کو اڑا لیا۔ حملہ آور نے چار سے چھ کلو بارودی مواد استعمال کیا۔ خودکش دھماکے میں بال بیرنگ کی مقدار زائد استعمال کی گئی۔ ذرائع نے کہا کہ حملہ آور نے راستے میں 2 جبکہ اندر داخل ہو کر 6 گولیاں چلائیں۔ تمام گولیوں کو خول جائے وقوعہ سے بطور شواہد اکٹھے کر لیے گئے۔ دریں اثناء شہدائے سانحہ مسجد خدیجۃ الکبریٰ ترلائی میں شہداء کی تعداد 33 ہو گئی۔ اجتماعی نمازِ جنازہ ترلائی کلاں اسلام آباد میں سوگواروں، اشکبار آنکھوں، آہوں اور سسکیوں میں ادا کر دی گئی۔ سربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ علامہ آغا سید حسین مقدسی نے اجتماعی نمازِ جنازہ کی امامت کی۔ نمازِ جنازہ سے قبل سیکرٹری جنرل ٹی این ایف جے علامہ راجہ بشارت حسین امامی نے واضح کیا کہ دہشت گردی و ظلم و بربریت شیعیان حیدر کرار کو راہِ حسینیت سے نہیں ہٹا سکتی، ماضی میں بھی ہمیں خودکش حملوں کا نشانہ بنایا گیا، ہمیں خون میں نہلایا گیا مگر نہ ہمارے قدم ڈگمگائے نہ ہی امن کے جھنڈے کو جھکنے دیا۔ علامہ بشارت امامی نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے مطالبہ کیا کہ آپ کے 72 گھنٹوں کے الٹی میٹم کے دوران ہی مجرموں کو گرفتار اور کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم نے اس المناک سانحے پر دس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ شہدائے سانحہ ترلائی کی میتیں آبائی علاقوں کے لیے روانہ کی گئیں جبکہ مقامی شہدا کو ترلائی میں گنجِ شہدا میں سپردِ خاک کیا گیا۔ امام بارگاہ جامع صادق جی نائن میں شہداء کی نماز جنازہ آغا شیخ محمد شفا نجفی نے پڑھائی۔ جس میں اپوزیشن لیڈر، آئی جی اسلام آباد، سیاسی و مذہبی شخصیات اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ دوسری جانب مسجد و امام بارگاہ خدیجۃ الکبری ترلائی میں دوران نماز جمعہ ہونے والی دہشت گردی کے خلاف شہدا کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیلئے شیعہ علماء کونسل 'مجلس وحدت المسلمین 'امامیہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل امامیہ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن پاکستان اور انجمن جانثاران اہلیبیت کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی امام بارگاہ سکینہ بنت الحسین شکریال سے نکالی گئی۔ ریلی میں بزرگ خواتین 'بچوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر دہشت گردی کی مذمت 'کالعدم جماعتوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ ریلی کے شرکاء نعرے بلند کرتے ہوئے ایکسپریس ہائی وے پر مارچ کیا، شہداء کو خراج تحسین پیش کیا، مقررین نے کہاکہ شہادت ہماری میراث ہے ہم دشمن اسلام اور دشمن پاکستان کی اس طرح کی بزدلانہ کارروائیوں سے ڈرنے والے نہیں، ایک قرارداد منظور کی گئی کہ شہداء کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔ راولپنڈی اسلام آباد کے تمام مساجد امام بارگاہ کو فل پروف سکیورٹی فراہم کی جائے۔ لاہور میں بھی پریس کلب کے سامنے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ جس کی قیادت سید علی دانش نقوی اور علامہ مبارک موسوی نے کی۔ قائد حزب اختلاف سینٹ و سربراہ مجلس وحدت المسلمین راجہ ناصر عباس کی اپیل پر ملک بھر میں پرامن احتجاج ہوا۔ علاوہ ازیں علامہ سید فصاحت حسین گردیزی سیکرٹری جنرل تحریک نفاذ فقہ جعفریہ فیڈرل کیپیٹل اسلام آباد کے مطابق سانحہ دہشتگردی خودکش دھماکہ جامع مسجد و امام بارگاہ قصر خدیجۃ الکبری ترلائی کلاں اسلام آباد کے شہداء کا سوئم اتوار کو قصر خدیجۃ الکبری میں ہو گا۔ 2 بجے قرآن خوانی اور 3 بجے مجلسِ عزا ہوگی جس سے ملک کے نامور علماء و ذاکرین خطاب کریں گے۔ آخر میں اجتماعی دعا اور فاتحہ خوانی ہو گی۔
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے + نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے سانحہ ترلائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد چند کوڑیوں کی خاطر مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں، ان کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے، انہیں مکمل نکیل ڈالیں گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: گرد منصوبوں کو ناکام بنایا گیا اسلام ا باد کے سانحہ ترلائی خدیجۃ الکبری افغانستان سے انہوں نے کہا دہشت گردی کی ترلائی کلاں امام بارگاہ سے دہشتگرد وزیر داخلہ کی تحقیقات وفاقی وزیر کر رہے ہیں سہولت کار کش دھماکے فنڈنگ اور محسن نقوی دے رہا ہے حملہ ا ور نے کہا کہ کے دوران کے مطابق گردوں کو نے والے گردی کے کے خلاف زخمی ہو کے بعد کے لیے امن کے میں ہو
پڑھیں:
سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ اسلام ٹائمز۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 24 مئی ٹرین حادثے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کئے، آپریشن کا سلسلہ مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں شروع کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں ہندوستانی پراکسی فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور دیسی ساختہ بم بھی برآمد ہوئے، ہلاک دہشت گرد علاقے میں دہشت گرد کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہے، عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی، ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔